LIVE
Loading Breaking News...

فالج کے علاج کی نئی چینی دوا، علاج کا وقت دو دن تک بڑھ گیا

News Image
طبی جریدے کی ایک نئی تحقیق کے مطابق چین میں تیار کردہ نئی دوا فالج کے مریضوں کے لیے علاج کا وقت چند گھنٹوں سے بڑھا کر دو دن تک کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ اس اہم طبی پیشرفت سے ہزاروں مریضوں کی جانیں بچانے اور معذوری سے محفوظ رکھنے میں بڑی مدد ملے گی۔
چین کے طبی ماہرین نے فالج کے علاج کے حوالے سے ایک تاریخی کامیابی حاصل کی ہے، جہاں ایک نئی دوا متعارف کرائی گئی ہے جو علاج کے روایتی وقت کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔ عام طور پر فالج کے حملے کے بعد مریض کے پاس علاج اور جان بچانے کے لیے صرف چند گھنٹوں کا وقت ہوتا ہے، لیکن اس نئی پیشرفت نے صورتحال کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ نئی طبی تحقیق کے مطابق یہ دوا فالج کے مریضوں کے لیے علاج کے مؤثر وقت کو بڑھا کر دو دن تک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس دوا کی تیاری اور اس کے طبی تجربات کے حوالے سے جاری کردہ تفصیلات نے عالمی سطح پر طبی برادری کی توجہ مبذول کروا لی ہے۔ روایتی طور پر فالج کے دوران دماغی بافتوں کو بچانے کے لیے انتہائی محدود وقت ملتا تھا جس کی وجہ سے اکثر مریض بروقت اسپتال نہ پہنچنے کے باعث مستقل معذوری کا شکار ہوجاتے تھے یا ان کی جان چلی جاتی تھی۔ اب اس دو روزہ توسیعی وقت کی وجہ سے دور دراز علاقوں یا تاخیر سے اسپتال پہنچنے والے مریضوں کو بھی زندگی بچانے والا علاج فراہم کرنا ممکن ہو سکے گا۔ ماہرین صحت نے اس تحقیق کو فالج کی تاریخ میں ایک سنگ میل قرار دیا ہے کیونکہ اس سے دنیا بھر میں فالج کے مریضوں کی اموات اور معذوری کی شرح میں خاطر خواہ کمی لائی جا سکتی ہے۔ طبی اداروں کے مطابق اس دوا کے مزید کلینیکل ٹرائلز جاری ہیں تاکہ اس کے اثرات کا بڑے پیمانے پر جائزہ لیا جا سکے اور اسے جلد از جلد عالمی مارکیٹ میں مریضوں کی دستبرسی کے لیے پیش کیا جا سکے۔ اس نئی دوا کی کامیابی سے نہ صرف چین بلکہ پوری دنیا کے صحت عامہ کے نظام پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ڈاکٹروں اور محققین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت فالج کے مریضوں کے لیے ایک نئی امید کی کرن ہے اور آنے والے وقتوں میں ہنگامی طبی امداد کے شعبے میں انقلاب برپا کر دے گی۔ طبی دنیا اب اس دوا کے حتمی منظوری کے مرحلے کا بے صبری سے انتظار کر رہی ہے تاکہ عام مریضوں کو اس کا باقاعدہ فائدہ پہنچایا جا سکے۔