World
اقوام متحدہ میں نیتن یاہو کا خطاب اور واک آؤٹ پر ردعمل
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران واک آؤٹ کرنے والے مندوبین کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے ہال سے اٹھ کر جانے والے وفود کو اخلاقی بزدل قرار دیتے ہوئے اپنے فوجی اقدامات کا بھرپور دفاع کیا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے دوران اس وقت ڈرامائی صورتحال پیدا ہو گئی جب اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے خطاب سے پہلے اور اس کے دوران کئی ممالک کے مندوبین نے احتجاجاً ہال سے واک آؤٹ کیا۔ یہ احتجاج غزہ اور خطے میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے تناظر میں کیا گیا، جس نے بین الاقوامی سطح پر اسرائیل کو درپیش سفارتی تنہائی کو مزید واضح کر دیا۔ واک آؤٹ کرنے والے وفود کا مقصد اسرائیلی پالیسیوں کے خلاف اپنا شدید احتجاج ریکارڈ کروانا تھا تاکہ عالمی سطح پر مظلومین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جا سکے۔
اس صورتحال پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ہال سے واک آؤٹ کرنے والے مندوبین کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اپنے خطاب کے دوران انہوں نے ہال چھوڑ کر جانے والے سفارت کاروں کو اخلاقی بزدل قرار دیا اور کہا کہ وہ حقائق کا سامنا کرنے سے گریزاں ہیں۔ نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت اپنے ملک کے دفاع کے لیے جو اقدامات کر رہی ہے، وہ بالکل درست ہیں اور وہ عالمی دباؤ کے باوجود اپنے دفاع کا حق استعمال کرتے رہیں گے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں حماس اور دیگر مخالف گروہوں کے خلاف جاری عسکری کارروائیوں کو جائز قرار دینے کی بھی کوشش کی۔
اسرائیلی رہنما کے اس بیان نے اقوام متحدہ کے ایوان میں پہلے سے موجود تناؤ میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ سفارتی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس واقعے نے ایک بار پھر مشرق وسطیٰ کے تنازع پر عالمی برادری کے شدید اختلافات کو اجاگر کر دیا ہے جہاں ایک طرف اسرائیل اپنی فوجی کارروائیوں کو جائز قرار دیتا ہے، وہیں دوسری طرف عالمی برادری کی بڑی تعداد خطے میں فوری جنگ بندی اور انسانی حقوق کی پاسداری کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر ہونے والا یہ واک آؤٹ اس بات کا غماز ہے کہ بین الاقوامی سفارت کاری میں اسرائیل کے خلاف آوازیں اب زیادہ کھل کر سامنے آ رہی ہیں، جس کے مستقبل میں گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔