LIVE
Loading Breaking News...

سوسن سارینڈن اور ہنہ آئنبنڈر اقوام متحدہ کے باہر احتجاج پر گرفتار

News Image
اسرائیلی وزیر اعظم کے خطاب سے پہلے اقوام متحدہ کے باہر احتجاج کرنے پر نامور ہستیوں سمیت متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا۔ یہ احتجاج فلسطینیوں کی حمایت اور غزہ کی صورتحال پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتنیاہو کے خطاب سے ٹھیک پہلے ایک بڑا احتجاج دیکھنے میں آیا جس میں نامور فلمی شخصیات بھی شامل تھیں۔ اطلاعات کے مطابق معروف ہالی ووڈ اداکارہ سوسن سارینڈن اور کامیڈین ہنہ آئنبنڈر کو دیگر تقریباً سو مظاہرین کے ہمراہ پولیس نے حراست میں لے لیا۔ یہ تمام افراد اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر کے باہر فلسطینیوں کے حق میں اور غزہ میں جاری کشیدگی کے خلاف پُرامن احتجاج ریکارڈ کروا رہے تھے۔ پولیس کی جانب سے امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر مظاہرین کو روکا گیا اور بعد ازاں گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔ گرفتاری کے باوجود مظاہرین نے نعرے بازی جاری رکھی اور دنیا سے مطالبہ کیا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں فوری جنگ بندی کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔ سوسن سارینڈن اور ہنہ آئنبنڈر سمیت تمام گرفتار افراد کی اس سرگرمی نے ایک بار پھر بین الاقوامی میڈیا کی توجہ اس احتجاج کی طرف مبذول کرا دی ہے جو دنیا بھر میں فلسطین کے حق میں جاری تحریک کا ایک حصہ ہے۔ اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی مختلف ردعمل سامنے آ رہا ہے جہاں انسانی حقوق کے کارکنان اور فنکار برادری کی جانب سے گرفتار ہونے والی شخصیات کی حمایت کی جا رہی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے اس معاملے پر مزید قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ احتجاج کے حوالے سے سکیورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے تاکہ اجلاس کے دوران کسی قسم کے ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔