LIVE
Loading Breaking News...

ڈچ وزیراعظم کا آئی سی سی وارنٹ یافتہ نیتن ہیاہو اور پیوٹن پر متضاد موقف

News Image
ڈچ وزیرِ اعظم نے بیان دیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن ہیاہو بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹ کے باوجود اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شریک ہو سکتے ہیں۔ اس بیان نے عالمی سطح پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے معاملے پر مغرب کے دوہرے معیار پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
نیتھ لینڈز کے وزیراعظم روب جیٹن نے ایک متنازعہ بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن ہیاہو کو بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کی طرف سے گرفتاری کے وارنٹ جاری ہونے کے باوجود اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے اجلاس میں شرکت کی اجازت ہونی چاہیے۔ ان کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر جنگی جرائم کے ملزمان کے ساتھ برتاؤ پر شدید بحث جاری ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس بیان نے مغربی ممالک کے دوہرے معیار کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔ اس سے قبل روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے خلاف آئی سی سی کے وارنٹ جاری ہونے پر یورپی ممالک اور نیدرلینڈز کی طرف سے سخت گیر موقف اپنایا گیا تھا اور ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا تھا، جبکہ اسرائیلی رہنما کے معاملے میں سفارتی لچک دکھائی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کے تمام رکن ممالک پر قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عدالت کے احکامات اور وارنٹ پر عملدرآمد کریں۔ نیدرلینڈز، جو کہ بین الاقوامی قانون کے دارالحکومت دی ہیگ کا میزبان بھی ہے، کے سربراہ کی طرف سے اس قسم کا بیان عالمی انصاف کے اصولوں پر سوالیہ نشان کھڑے کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل اس تنازعے نے سفارتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ مختلف انسانی حقوق کی تنظیمیں اور عالمی برادری اس بات کا مطالبہ کر رہی ہے کہ جنگی جرائم کے تمام ملزمان کے ساتھ یکساں قانون کے تحت سلوک کیا جانا چاہیے، خواہ ان کا تعلق کسی بھی طاقتور ملک سے کیوں نہ ہو۔