World
نیتن یاہو کا مغربی کنارے میں تشدد کے حوالے سے بیان
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اقوام متحدہ سے خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد کاروں کے تشدد کو کم کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے اس طرح کے پرتشدد واقعات کی ذمہ داری نام نہاد کم عمر بدمعاشوں پر عائد کی۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے مقبوضہ مغربی کنارے میں ہونے والے پرتشدد واقعات کو انتہائی معمولی رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ مغربی کنارے میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات کوئی سوچی سمجھी ریاستی یا منظم مہم نہیں ہے بلکہ یہ چند 'کم عمر بدمعاشوں' کی طرف سے کی جانے والی شرارتیں ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ان کے اس بیان کا مقصد عالمی سطح پر اسرائیل پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنا اور یہودی آباد کاروں کے غیر قانونی اقدامات پر پردہ ڈالنا ہے۔
واضح رہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں طویل عرصے سے فلسطینی شہریوں کے خلاف انتہا پسند یہودی آباد کاروں کی جانب سے حملوں اور تشدد کا سلسلہ جاری ہے جس پر بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل گہری تشویش کا اظہار کرتی چلی آئی ہیں۔ فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضے اور ان کے خلاف ہونے والی زیادتیوں کو دنیا بھر میں مذموم نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت کی طرف سے اس حوالے سے ہمیشہ نرم رویہ اختیار کیا گیا ہے اور اس طرح کے بیانات اس روش کا تسلسل ہیں۔
اپنے اس خطاب میں نیتن یاہو نے خطے کی مجموعی صورتحال اور تنازعے کے حوالے سے اپنے روایتی موقف کو دہرایا جبکہ دنیا کی توجہ دوسری اہم عالمی ترجیحات کی طرف مبذول کرانے کی بھی کوشش کی۔ بین الاقوامی میڈیا اور مبصرین کا ماننا ہے کہ نیتن یاہو کا یہ بیان زمینی حقائق کے یکسر منافی ہے کیونکہ مغربی کنارے میں ہونے والا تشدد بظاہر الگ تھلگ واقعات نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کا حصہ دکھائی دیتا ہے، جس پر دنیا بھر کے رہنماؤں کی طرف سے کڑی تنقید بھی کی جاتی رہی ہے۔