Pakistan
سپریم کورٹ کا فیصلہ: حق مہر کی ادائیگی اور نکاح نامے کی درستگی لازمی
سپریم کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ حق مہر بیوی کا بنیادی حق ہے جسے شرائط سے مشروط نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے نکاح نامہ پُر کرنے کے طریقہ کار کو بھی مزید شفاف بنانے کی ہدایت کی ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک انتہائی اہم اور بروقت فیصلے میں یہ یاد دہانی کرائی ہے کہ حق مہر کوئی احسان یا دباؤ کا ہتھیار نہیں بلکہ بیوی کا ایک طے شدہ اور ناقابل تنسیخ قانونی و شرعی حق ہے۔ نکاح نامے کے اندراج سے پیدا ہونے والے تنازعات پر دیے گئے اس فیصلے میں عدالت نے واضح کیا ہے کہ مہر کی ادائیگی اچھے طریقے سے، طے شدہ وقت پر اور بغیر کسی ایسی شرط کے ہونی چاہیے جو عورت کے لیے تذلیل یا دباؤ کا باعث بنے۔ کوئی بھی شوہر اس مؤقف کا اعادہ نہیں کر سکتا کہ وہ حق مہر صرف اسی صورت میں ادا کرے گا جب بیوی اس کی مرضی کے مطابق زندگی گزارے گی یا طلاق کے حصول کی کوشش نہیں کرے گی۔ اس قسم کی شرائط حق مہر کے اصل مقصد کو ہی ختم کر دیتی ہیں۔ اس فیصلے کی اہمیت اس لیے بھی دو چند ہو جاتی ہے کیونکہ اکثر خواتین کو ان کے نکاح کے وقت طے شدہ حقوق کے حصول کے لیے عدالتوں کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں۔ عدالتی فیصلے میں نکاح نامے کی تیاری کے دوران ہونے والی لاپرواہیوں کی طرف بھی توجہ مبذول کرائی گئی ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ یہ اہم قانونی دستاویز بغیر سوچے سمجھے بھر دی جاتی ہے، جس کے خانے خالی چھوڑ دیے جاتے ہیں یا جائیداد کی تفصیلات مبہم رکھی جاتی ہیں تاکہ بعد میں فریقین کے درمیان تنازعات پیدا ہوں۔ عدالت نے تمام نکاح رجسٹرارز کو ہدایت کی ہے کہ وہ نکاح نامے کے تمام معاملات خصوصاً حق مہر، جائیداد اور حق طلاق سے متعلقہ اندراجات کو انتہائی احتیاط سے پُر کریں۔ دستخط یا انگوٹھا لگوانے سے پہلے فریقین کو تمام شرائط اچھے طریقے سے سمجھائی جائیں۔ اس کے علاوہ یونین کونسلز کو بھی پابند کیا گیا ہے کہ وہ رجسٹرارز کو تربیت دیں، ریکارڈ کی جانچ پڑتال کریں اور اپنے فرائض کی انجام دہی میں غفلت برتنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ ان ہدایات پر عمل درآمد سے مستقبل میں ہونے والے لاتعداد ازدواجی تنازعات کا سدباب ممکن ہو سکے گا۔ ایک درست اور شفاف طریقے سے بھرا گیا نکاح نامہ فریقین کے حقوق کا ضامن ہوتا ہے، اور خواتین کے لیے تو یہ اور بھی زیادہ اہمیت رکھتا ہے کیونکہ نکاح نامہ ہی وہ بنیادی دستاویز ہے جہاں ان کے مالی حقوق تحریری طور پر محفوظ کیے جاتے ہیں۔ عدالت کا یہ واضح پیغام ہے کہ شادی کو کوئی ایسا سودا نہیں بنایا جا سکتا جہاں عورت کو اس کا قانونی حق صرف شوہر کی مرضی سے ملے۔ مہر بیوی کا حق ہے اور قانون اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ عدالتیں اس کا بھرپور تحفظ کریں گی۔