LIVE
Loading Breaking News...

لاہور ہائیکোর্ট میں نوری نیازی اور عظمیٰ خان کی حراست کیخلاف درخواست پر سماعت

News Image
لاہور ہائیکোর্ট نے پی ٹی آئی کے بانی کی بہنوں ڈاکٹر عظمیٰ اور نورین نیازی کی حراست فوری طور پر معطل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کر لیا ہے۔
لاہور ہائیکোর্ট نے جمعرات کے روز پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین کی بہنوں نورین نیازی اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کی حفاظتی نظربندی کے نوٹیفیکیشنز کو فوری طور پر معطل کرنے کی استدعا مسترد کر دی ہے۔ عدالت نے اس معاملے پر متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کر لیا ہے۔ عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو پیر کے روز پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کے تحت تیس دن کے لیے حراست میں لیا گیا تھا، جبکہ ان کی ایک اور بہن علیمہ خان کو ایک روز قبل حراست میں ڈالا گیا تھا۔ پی ٹی آئی کی جانب سے ستائیس ستمبر کو ملک بھر میں احتجاج اور اسلام آباد کی طرف مارچ کی کال دی گئی ہے جس سے قبل پارٹی رہنماؤں اور بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ جمعرات کو جسٹس ابہر گل خان نے نورین نیازی کی صاحبزادی سکینہ نیازی کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر سماعت کی۔ دوران سماعت وکیل صفائی بیرسٹر تیمور ملک اور ایڈوانس رانا مدثر نے عدالت کو بتایا کہ دونوں خواتین غیر سیاسی ہیں اور ان کی حراست کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ڈاکٹر عظمیٰ پہلے ہی ایک مقدمے میں بری ہو چکی ہیں اور عدالت کا فیصلہ ریکارڈ پر موجود ہے۔ وکیل نے ملتان بنچ کے فیصلوں کا حوالہ بھی دیا جن میں پی ٹی آئی سے وابستہ افراد کی نظربندی کے احکامات کالعدم قرار دیے گئے تھے۔ تاہم جسٹس ابہر گل خان نے ریمارکس دیے کہ عدالت فریقین کا موقف سنے بغیر یکطرفہ حکم جاری نہیں کرے گی۔ عدالت نے لاہور کے ڈپٹی کمشنر، سی سی پی او، سیکرٹری داخلہ اور سپرنٹنڈنٹ کوٹ لکھپت جیل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔ دوسری جانب پنجاب کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس نے خبردار کیا ہے کہ قانون شکنی کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا جبکہ صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ ہے۔ حکومتی عہدیداران کا کہنا ہے کہ کسی کو بھی سڑکیں بند کرنے یا قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔