Pakistan
لاہور ہائیکورٹ کا پنجاب پولیس کو ایف آئی آر کا فونٹ سائز بڑھانے کا حکم
لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب بھر میں پولیس ایف آئی آر کے انتہائی چھوٹے سائز میں چھپنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے آئی جی پنجاب کو ہدایت کی ہے کہ ایف آئی آر کا فونٹ سائز فوری طور پر بڑا کیا جائے تاکہ پڑھنے میں دشواری نہ ہو۔
لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے جمعرات کے روز ایک توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کے دوران پنجاب پولیس کی جانب سے درج کی جانے والی ایف آئی آر کے انتہائی چھوٹے فونٹ پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے آئی جی پنجاب کو حکم دیا ہے کہ صوبہ بھر میں پولیس کی جانب سے جاری ہونے والی ایف آئی آر کے فونٹ سائز میں فوری طور پر اضافہ کیا جائے تاکہ عدالتی کارروائی کے دوران اور عام شہریوں کو انہیں پڑھنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔ سماعت کے دوران آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم عدالت میں پیش ہوئے جن سے چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آخر کیوں اتنے چھوٹے سائز میں ایف آئی آر چھپائی جاتی ہیں جنہیں پڑھنا ناممکن ہوتا ہے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ پولیس بظاہر کاغذ کی بچت کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن اس کے نتیجے میں ججز کی بینائی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ تین صفحات پر مشتمل بیان کو جب سکیڑ کر صرف ایک صفحے پر پرنٹ کیا جاتا ہے تو اس کا فونٹ اتنا باریک ہو جاتا ہے کہ اسے پڑھنا شدید محال بن جاتا ہے۔ گزشتہ روز بھی ایک کیس کی سماعت کے دوران جب چنگ پولیس کے ایس پی عبداللہ عدالت میں پیش ہوئے اور انہیں اپنے ہی علاقے کی ایف آئی آر پڑھنے کو کہا گیا تو وہ بھی اس کے مندرجات درست طریقے سے نہیں پڑھ سکے۔ چیف جسٹس نے اس پر طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس تحریر کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے کاغذ پر مکھیاں بیٹھی ہوں اور مکھیوں کا سائز بھی اس لکھائی سے بڑا ہوتا ہے۔
عدالت نے اس سنگین مسئلے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ پورے پنجاب میں ایف آئی آر کے چھپنے کے نظام کو بہتر بنایا جائے اور ایک یکساں بڑا فونٹ سائز نافذ کیا جائے۔ اس پر آئی جی پنجاب نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے چیئرمین کو اس ضمن میں خط پہلے ہی لکھا جا چکا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی پنجاب سے اس معاملے میں اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے اور کیس کی سماعت ستائیس ستمبر تک ملتوی کر دی ہے۔ اس کے علاوہ عدالت نے پولیس کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست پر بھی الگ سے رپورٹ طلب کی ہے۔