Technology
پاکستان کا سلامتی کونسل میں اے آئی کے ہتھیار بننے کے خلاف سخت مؤقف
پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو جاری ہتھیاروں کی دوڑ کا نیا رخ نہ بنایا جائے۔ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے عالمی فورم پر زور دیا کہ اے آئی کے فوجی استعمال کو روکنے اور انسانی کنٹرول کو یقینی بنانے کے لیے فوری حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔
پاکستان نے سلامتی کونسل کے ایک اہم اجلاس کے دوران دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کو کسی بھی صورت میں موجودہ ہتھیاروں کی دوڑ کا نیا محاذ یا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ فرانس کی صدارت میں منعقدہ اس اجلاس میں عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان اور مختلف ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی، جہاں مصنوعی ذہانت کے بین الاقوامی سلامتی پر پڑنے والے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس سے ویڈیو لنک اور روبرو خطاب کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خبردار کیا کہ ٹیکنالوجی کی اس نئی لہر کو بے لگام نہیں چھوڑا جا سکتا اور اس کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے مربوط عالمی کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عسکری شعبے میں غلط فیصلوں کے خطرات کو کم کرنے اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے فوری طور پر ضابطہ اخلاق اور اعتماد سازی کے اقدامات ناگزیر ہیں۔
اس اجلاس میں اوپن اے آئی کے سربراہ سیم ألٹمین، اینتھروپک کے سی ای او داریو امودی، ہگنگ فیس کے کلیمنٹ ڈیلنگیو اور دیگر عالمی ماہرین نے بھی کونسل کو بریفنگ دی۔ ٹیکنالوجی انڈسٹری کے ان رہنماؤں نے تسلیم کیا کہ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت کے سسٹمز زیادہ خود مختار اور طاقتور ہو رہے ہیں، اس کے لیے انتہائی محتاط رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔ اینتھروپک کے سی ای او نے اعلان کیا کہ ان کی کمپنی ضرورت پڑنے پر نئی ریلیزز کی سیکیورٹی کے لیے کام کی رفتار سست کر دے گی، جبکہ سیم ألٹمین کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات انتہائی احتیاط کا تقاضا کرتے ہیں تاکہ طاقت چند ہاتھوں میں مرتکز نہ ہو۔
پاکستانی نائب وزیر اعظم نے واضح کیا کہ مصنوعی ذہانت کے ڈیزائن، ترقی اور انضمام کے تمام مراحل میں انسانی فیصلے اور کنٹرول کی بالادستی کو برقرار رکھنا ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اے آئی کے ذریعے جعلی خبروں، غلط معلومات اور ریاست یا غیر ریاستی عناصر کی جانب سے اہم انفراسٹرکچر پر سائبر حملوں جیسے چیلنجز میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ اسحاق ڈار نے خبردار کیا کہ ٹیکنالوجی کے نظم و نسق کو چند مخصوص دارالحکومتوں یا گنے چنے کارپوریشنز کی اجارہ داری نہیں بننا چاہیے، کیونکہ امتیازی ایجنڈے اور منتخب نمائندگی پر مشتمل پلیٹ فارمز عالمی امن کے لیے مددگار ثابت نہیں ہوں گے۔
اختتامی کلمات میں، پاکستان نے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام تمام ممالک کی شمولیت کے ساتھ جامع فورمز پر اے آئی کی گورننس کو اٹھانے کا پرزور مطالبہ کیا۔ پاکستان نے جنیوا میں اے آئی گورننس پر ہونے والے پہلے یو این گلوبل ڈائیلاگ کا خیرمقدم کیا اور ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن (WAICO) کے بانی رکن کی حیثیت سے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک سب کی بہتری اور فلاح کے لیے مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ فروغ میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ اجلاس میں مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں اس ٹیکنالوجی کے ضابطے کے حوالے سے تشویش اور غور و فکر میں تیزی آ رہی ہے۔