Politics
وائٹ ہاؤس میڈیا پابندی: سی این این اور دیگر اداروں کی ہنگامی سماعت کی درخواست
سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو نے عدالت کے حکم کے باوجود وائٹ ہاؤس میں داخلہ نہ ملنے پر فوری سماعت کی درخواست دائر کر دی ہے۔ جج نے پریس کی اسناد کی منسوخی کو آئینی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔
امریکی خبر رساں اداروں سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو نے جمعرات کے روز ایک بار پھر عدالت سے رجوع کرتے ہوئے ہنگامی سماعت کی درخواست دائر کی ہے۔ یہ اقدام اس وقت اٹھایا گیا جب عدالتی احکامات کی واضح خلاف ورزی کرتے ہوئے ان اداروں کے رپورٹرز کو وائٹ ہاؤس میں داخلے سے روک دیا گیا۔ عدالت میں جمع کرائے گئے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ آج صبح تینوں اداروں کے صحافیوں نے وائٹ ہاؤس میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن انہیں سکیورٹی اہلکاروں نے واپس لوٹا دیا۔ مدعیان نے عدالت سے استدعاء کی ہے کہ اس معاملے پر ویڈیو کانفرنس یا ٹیلی کانفرنس کے ذریعے جلد از جلد سماعت کی جائے۔ اس سے قبل ڈسٹرکٹ جج ٹموتی کیلی نے اپنے فیصلے میں حکم دیا تھا کہ جن تین خبر رساں اداروں کے داخلے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے پابندی لگائی تھی، ان کی پریس اسناد اور رسائی کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔ جج کا کہنا تھا کہ پریس کی اسناد منسوخ کرنا آئینی حقوق اور قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی طرف سے کسی بھی فریق کو ایسے اہم مفاد سے محروم کرنے سے پہلے نوٹس اور مؤقف سننے کا موقع ملنا چاہیے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ان اداروں پر جعلی خبریں اور من گھڑت کہانیاں پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے پریس پاس معطل کیے تھے، جس کے خلاف ان اداروں نے فری پریس کے بنیادی حق کے تحت مقدمہ دائر کیا تھا۔ دوسری جانب محکمہ انصاف کا مؤقف تھا کہ وائٹ ہاؤس تک رسائی ایک مراعات ہے کوئی بنیادی حق نہیں اور صدر کو حساس مقامات تک رسائی کنٹرول کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ وائٹ ہاؤس پریس آفس نے اپنے خط میں دعویٰ کیا تھا کہ ان اداروں نے قومی سلامتی کے حساس معاملات پر جھوٹی اور درجہ بند معلومات شائع کی ہیں، جس میں ایران تنازع اور خفیہ تعمیرات کی تفصیلات شامل ہیں۔ تاہم جج ٹموتی کیلی نے ان دلائل کو مسترد کرتے ہوئے شک ظاہر کیا کہ قومی سلامتی کا عذر اصل محرک نہیں ہے۔ اس تنازع کے بعد تمام بڑے امریکی نشریاتی اداروں نے اظہارِ یکجہتی کے طور پر وائٹ ہاؤس کی پول کوریج معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ میڈیا اداروں کا کہنا ہے کہ چینی صدر کے دورے کے موقع پر کوریج کے تناظر میں وقت انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور حکومت کو اپنی مرضی کی رپورٹنگ نہ ہونے پر اداروں پر پابندی لگانے کا کوئی حق نہیں۔