Politics
پی ٹی آئی مارچ 27 ستمبر: کارکنوں کے لیے اہم ہدایات اور سیاسی صورتحال
پاکستان تحریک انصاف نے ستمبر کے احتجاجی مارچ کے لیے تیاریاں تیز کرتے ہوئے کارکنوں کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ کسی قسم کے ہتھیار ساتھ نہ رکھیں۔ پارٹی قیادت نے ملک بھر میں پُر امن احتجاج ریکارڈ کرانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے آئندہ آنے والے ملک گیر احتجاج اور طویل مارچ کے پیش نظر اپنی حکمت عملی واضح کر دی ہے۔ پارٹی قیادت کی جانب سے کارکنوں کو سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ کسی بھی صورت میں اپنے ساتھ ہتھیار لے کر نہ جائیں اور احتجاج کو ہر لحاظ سے مکمل طور پر پرامن رکھیں۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ جمہوری اور آئینی دائرے میں رہتے ہوئے اپنے مطالبات منوانے کے لیے پرامن احتجاج کا حق استعمال کریں گے۔
اس سلسلے میں سیاسی سرگرمیاں بھی عروج پر پہنچ چکی ہیں اور پارٹی کے متحرک رہنماؤں کی زیر قیادت عوامی رابطہ مہم جاری ہے۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سمیت اہم شخصیات سندھ اور ملک کے دیگر حصوں کے دورے کر رہی ہیں تاکہ کارکنوں کو متحرک کیا جا سکے اور ستمبر کے آخر میں ہونے والے احتجاجی دنگل کے لیے بھرپور تیاری کی جا سکے۔ حیدرآباد اور دیگر شہروں میں کارکنوں کے بڑے اجتماعات منعقد کیے جا رہے ہیں جن میں پارٹی کے آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی روشنی ڈالی جا رہی ہے۔
دوسری جانب سیاسی حلقوں میں اس احتجاج کے حوالے سے ہلچل مچی ہوئی ہے جبکہ انتظامیہ بھی سکیورٹی کے سخت انتظامات پر غور کر رہی ہے۔ پی ٹی آئی قیادت کا اصرار ہے کہ ان کا مقصد ملک میں قانون کی بالادستی اور جمہوری اقدار کا تحفظ ہے، اس لیے وہ کسی بھی پرتشدد کارروائی یا انتشار کا حصہ نہیں بنیں گے۔ کارکنوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں اور قیادت کے احکامات کی مکمل پیروی کرتے ہوئے پرامن احتجاج کو ہی اپنا سب سے بڑا ہتھیار بنائیں۔