World
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا بیان، جنگ ختم کرنے کا اختیار امریکہ کے پاس ہے
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ تہران کبھی گھٹنے نہیں ٹیکے گا اور جنگ کے خاتمے کا فیصلہ اب امریکہ کو کرنا ہے۔ انہوں نے امریکی دھمکیوں کے باوجود کسی بھی قسم کی پسپائی سے واضح انکار کر دیا ہے۔
تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ یہ مکمل طور پر امریکہ پر منحصر ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگ کو ختم کرنے کا راستہ اختیار کرتا ہے یا نہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایرانی قوم تمام تر بیرونی دباؤ اور دھمکیوں کے باوجود کبھی بھی اپنے حقوق سے دستبردار نہیں ہوگی اور نہ ہی گھٹنے ٹیکے گی۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور فریقین کے درمیان سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے اور دیگر میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی صدر کی جانب سے دھمکیوں اور سخت بیانات کے بعد ایرانی صدر نے دوٹوک الفاظ میں واضح کر دیا ہے کہ تہران ہر قسم کی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ ایرانی قیادت کا مؤقف ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے کبھی جارحیت کی ابتدا نہیں کی، تاہم ملکی دفاع اور خودمختاری کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امن کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں مگر اس کے لیے مساوی احترام اور باہمی مفادات کی پاسداری ضروری ہے۔
دوسری جانب، خطے کے مبصرین کا ماننا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات اور سفارتی راہداریوں میں اب بھی کافی فاصلہ موجود ہے۔ تہران کی جانب سے یہ امید بھی ظاہر کی گئی ہے کہ واشنگٹن انتظامیہ انتخابات سے قبل پرانے معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں کی طرف واپس لوٹے گی تاکہ بحران کا کوئی پرامن حل نکالا جا سکے۔ اس تمام صورتحال میں، ایرانی صدر کا یہ عزم کہ وہ کسی بھی قیمت پر ہتھیار نہیں ڈالیں گے، دونوں ممالک کے مابین جاری کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔