World
افغانستان میں پاکستانی فضائی حملے چار شہری جاں بحق کابل کا دعویٰ
افغان حکام کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے فضائی حملوں کے نتیجے میں چار شہری جاں بحق ہو گئے۔ دونوںممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی کے باعث خطے میں تناؤ میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
کابل کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان کی طرف سے افغانستان کے اندر کیے جانے والے فضائی حملوں کے نتیجے میں چار افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ افغان حکام نے اس کارروائی کی شدید مذمت کی ہے اور اسے ملکی خودمختاری کے خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سرحدی امور اور سیکیورٹی کے مسائل پر پہلے ہی کشیدگی پائی جاتی ہے۔ طالبان حکومت نے اس واقعے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کے اقدامات دوطرفہ تعلقات کو مزید خراب کر سکتے ہیں۔ دوسری طرف، اس معاملے پر پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کی طرف سے فوری طور پر کوئی تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم ماضی میں بھی اسلام آباد کی جانب سے افغان سرزمین کو پاکستانی طالبان کے خلاف استعمال کیے جانے کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اس تازہ ترین واقعے کے بعد پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی کی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے اور دونوں اطراف سے مزید حفاظتی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ سرحدی علاقوں میں رہنے والے عام شہریوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان اس طرح کے سرحدی تنازعات خطے کے امن کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں حکومتوں کو اس تناؤ کو کم کرنے کے لیے سفارتی ذرائع کا استعمال کرنا چاہیے تاکہ مزید جانی نقصان اور علاقائی کشیدگی سے بچا جا سکے۔