Business
تین بہترین ڈیویڈنڈ ای ٹی ایف جو ٹیک شیئرز کے ساتھ منافع بھی دیتے ہیں
سرمایہ کاروں کو روایتی طور پر زیادہ منافع بخش سیکٹرز اور بڑی ٹیک کمپنیوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا تھا۔ تاہم کچھ ایسے خصوصی ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز موجود ہیں جو اینڈیا اور مائیکروسافٹ جیسی بڑی ٹیک کمپنیوں کے حصص رکھنے کے ساتھ آٹھ فیصد تک کا شاندار منافع بھی فراہم کرتے ہیں۔
تاریخی طور پر انکم کے حصول کے لیے سرمایہ کاروں کو ایک مشکل فیصلے کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے کہ آیا وہ افادیت، ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ یعنی ریٹس، اور تمباکو کے شعبوں میں زیادہ منافع کے پیچھے بھاگیں یا پھر بڑی اور مستحکم ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کریں۔ روایتی طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں زیادہ منافع یا ڈیویڈنڈ نہیں دیتیں جبکہ دوسری طرف ہائی ییلڈ سیکٹرز کی ترقی اتنی تیز نہیں ہوتی۔ تاہم مالیاتی منڈیوں میں اب ایسی مصنوعات متعارف ہو چکی ہیں جو دونوں دنیاؤں کی بہترین خصوصیات کو یکجا کرتی ہیں۔
نئے تجزیات کے مطابق تین ایسے نمایاں ڈیویڈنڈ ای ٹی ایف یعنی ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز سامنے آئے ہیں جو مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کی دنیا کے بڑے ناموں جیسے کہ اینڈیا اور مائیکروسافٹ کے حصص کے بھی مالک ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ فنڈز اپنے سرمایہ کاروں کو آٹھ فیصد تک کا پرکشش منافع یا ڈیویڈنڈ بھی ادا کر رہے ہیں۔ یہ انویسٹمنٹ حکمت عملی ان افراد کے لیے انتہائی موزوں ہے جو ایک ہی وقت میں کیپٹل گین یعنی سرمائے میں اضافے کے ساتھ ساتھ باقاعدہ ماہانہ یا سالانہ آمدنی کے بھی خواہشمند ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے فنڈز سرمایہ کاروں کے پورٹ فولیو کو متنوع بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک طرف جہاں اینڈیا اور مائیکروسافٹ جیسی کمپنیاں مستقبل کی ٹیکنالوجی اور اے آئی کے شعبے کی قیادت کر رہی ہیں اور ان کے حصص کی قیمتوں میں اضافے کا قوی امکان ہے، وہیں دوسری طرف ان فنڈز سے ملنے والا باقاعدہ منافع سرمایہ کاروں کو مالیاتی استحکام فراہم کرتا ہے۔ اس سے منڈی کے اتار چڑھاؤ کے دوران خطرات کو کم کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔
مجموعی طور پر یہ تینوں ڈیویڈنڈ ای ٹی ایف ان تمام افراد کے لیے ایک سنہری موقع فراہم کرتے ہیں جو روایتی سرمائے کی حدود سے باہر نکل کر جدید دور کے تقاضوں کے مطابق منافع کمانا چاہتے ہیں۔ سرمایہ کاری کرنے سے قبل ہر فرد کو اپنی مالیاتی حیثیت اور مارکیٹ کے رجحانات کا گہرائی سے جائزہ لینا چاہیے تاکہ طویل مدت میں بہترین منافع کو یقینی بنایا جا سکے اور مالی خطرات سے بچا جا سکے۔