LIVE
Loading Breaking News...

مغربی کنارے میں بستیاں اور نسلی تطہیر کا خطرہ: اقوام متحدہ کا بیان

News Image
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں صیہونی بستیوں کی توسیع سے علاقے میں جبری بے دخلی اور نسلی تطہیر کا خطرہ پیدا ہو رہا ہے۔ عالمی ادارے نے اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے فوری روک تھام کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں جاری غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی توسیع اور تعمیراتی سرگرمیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس نوعیت کے اقدامات خطے میں نسلی تطہیر کے تاریک سائے کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی پالیسیوں سے نہ صرف مقامی فلسطینی آبادی کو جبری طور پر بے دخل کرنے کا عمل تیز ہو رہا ہے بلکہ دو ریاستی حل کے امکانات بھی شدید ترین خطرات کی زد میں آ چکے ہیں۔ عالمی ادارے کے مطابق مغربی کنارے میں اوسط سے زیادہ تیزی کے ساتھ نئی بستیوں کی تعمیر اور زمینوں پر قبضے کا جو سلسلہ جاری ہے، وہ بین الاقوامی قوانین اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اقوام متحدہ کے سربراہ نے زور دیا ہے کہ تمام فریقین کو ایسے یکطرفہ اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو دیرپا امن کے قیام اور تنازع کے منصفانہ حل کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنتے ہیں۔ زمینوں کے اس مسلسل انہدام اور غیر قانونی تسلط نے عام فلسطینیوں کی زندگی کو انتہائی اجیرن بنا دیا ہے۔ بین برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں فوری مداخلت کریں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع کے اس عمل کو فوری طور پر نہ روکا گیا، تو خطے میں امن کی بحالی کی تمام تر کوششیں ناکام ہو جائیں گی اور کشیدگی ایک خطرناک نہج پر پہنچ جائے گی۔