AI
مصنوعی ذہانت کے عالمی حفاظتی ضوابط اور امریکہ کا مؤقف
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مصنوعی ذہانت کے عالمی معیارات اور حفاظتی ضوابط اپنانے کے مطالبات پر بحث کی گئی۔ امریکہ نے اوپن اے آئی اور انترھوپک کی جانب سے بین الاقوامی قوانین بنانے کی استدعا کو فی الحال مسترد کر دیا ہے۔
مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی تیز رفتار ترقی اور اس کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر عالمی سطح پر حفاظتی ضوابط (گارڈ ریلز) کے قیام کی کوششیں ایک بار پھر تیز ہو گئی ہیں۔ حال ہی میں ٹیک صنعت کے بڑے ناموں بشمول اوپن اے آئی اور انترھوپک کے سربراہان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر اے آئی کے معیارات اور قوانین کو اپنائے۔ ان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے اے آئی سسٹمز زیادہ طاقتور اور خودمختار ہوتے جا رہے ہیں، عالمی سطح پر ان کے سیکیورٹی رسک کو کنٹرول کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
تاہم، اس عالمی مباحثے کے دوران کئی اہم ممالک اور طاقتوں کے درمیان اختلافات بھی کھل کر سامنے آئے ہیں۔ امریکہ نے اوپن اے آئی اور انترھوپک کی جانب سے عالمی سطح پر یکساں اے آئی معیارات قائم کرنے کی پُر زور اپیلوں کو فی الحال مسترد کر دیا ہے۔ امریکی انتظامیہ کا موقف ہے کہ اس طرح کے سخت بین الاقوامی ضوابط ٹیکنالوجی کی جدت اور مسابقت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس کے باوجود، سلامتی کونسل میں ہونے والے اجلاسوں میں دنیا بھر کے رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اے آئی کو انسانیت کے لیے خطرہ بننے سے روکنے کے لیے ایک متوازن حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب، پاکستان نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو کسی بھی صورت میں جاری جنگی اور عسکری مسابقت کا نیا محاذ یا چہرہ نہیں بننا چاہیے۔ پاکستانی وفد کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کی دوڑ میں اخلاقی حدود کا خیال نہ رکھنا عالمی امن کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ عالمی سطح پر اے آئی کے ضوابط کے حوالے سے یہ کشمکش اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ آنے والے دنوں میں ٹیکنالوجی کے اخلاقی اور قانونی فریم ورک پر بحث مزید شدت اختیار کرے گی۔