Business
خام تیل کے نرخوں میں اضافہ، مستقبل کے سودے اوپر بند ہوئے
مسلسل گراوٹ کے بعد بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کے نرخوں میں تیزی ریکارڈ کی گئی ہے۔ رسد کی ممکنہ تنگی اور طلب کے اشاروں کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کے مستقبل کے سودے مسلسل گراوٹ کے طویل سلسلے کے بعد بالاخر اضافے کے ساتھ بند ہوئے ہیں۔ شنہوا اور دیگر معاشی ذرائع کے مطابق تیل کی منڈی میں حالیہ دنوں کے دوران خریداروں کی دلچسپی میں اضافہ دیکھا گیا ہے جس سے قیمتوں کو سہارا ملا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں رسد کی تنگی کے مضبوط اشارے مل رہے ہیں جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہو گیا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل اور رگ زون کی رپورٹس کے مطابق برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں تقریباً تین فیصد تک کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ توانائی کے شعبے کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ قلیل مدت میں رسد کے مسائل اور جغرافیائی سیاسی صورتحال قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا باعث بن رہی ہے، تاہم طویل مدتی پیشگوئیاں کچھ اور اشارہ کرتی ہیں۔ ایف جی ای نیکسینٹ ای سی اے (FGE NexantECA) اور سی این بی سی ٹی وی 18 کی رپورٹس کے مطابق آنے والے برسوں بالخصوص 2027 تک خام تیل کی قیمتیں 75 سے 85 ڈالر فی بیرل کی درمیانی سطح پر آ سکتی ہیں۔
موجودہ صورتحال میں تیل پیدا کرنے والے ممالک کی پالیسیاں اور عالمی سطح پر طلب و رسد کا توازن مارکیٹ کی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ حالیہ سیشن میں قیمتیں اوپر گئی ہیں لیکن اقتصادی ترقی کی رفتار اور توانائی کے متبادل ذرائع کے فروغ کی وجہ سے مستقبل میں منڈی کا رخ تبدیل بھی ہو سکتا ہے۔ سرمایہ کار عالمی معیشت کے اشاریوں اور تیل کے ذخائر کے بارے میں ہفتہ وار رپورٹس کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ آئندہ کے لائحہ عمل کا تعین کیا جا سکے۔