Technology
ترک ٹیلی کام کی نئی مصنوعی ذہانت پر مبنی سائبر سکیورٹی شیلڈ
ترک ٹیلی کام نے دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے سائبر خطرات اور مصنوعی ذہانت پر مبنی حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک جدید سکیورٹی شیلڈ تیار کی ہے۔ یہ نیا ڈیجیٹل دفاعی نظام انتہائی پیچیدہ سائبر حملوں کو بروقت ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
استنبول: دنیا بھر میں سائبر حملوں کی تعداد اور ان کی پیچیدگی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اور اب حملہ آور مصنوعی ذہانت (AI) جیسی جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس بڑھتے ہوئے چیلنج سے نمٹنے کے لیے ترکیہ کی معروف ٹیلی کمیونیکیشن اور ٹیک کمپنی 'ترک ٹیلی کام' نے ایک انتہائی جدید اور مصنوعی ذہانت سے لیس دفاعی شیلڈ تیار کی ہے۔ یہ اقدام ڈیجیٹل اثاثوں کے تحفظ اور قومی سطح پر نیٹ ورک کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
نئے نظام کے تحت، ترک ٹیلی کام نے اپنی سکیورٹی کی صلاحیتوں کو مزید وسعت دی ہے تاکہ روایتی طریقوں سے ہٹ کر ابھرنے والے نئے ڈیجیٹل خطرات کا موثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی یہ شیلڈ نہ صرف مشکوک سرگرمیوں کو لمحوں میں شناخت کرتی ہے بلکہ خودکار طریقے سے کسی بھی ممکنہ حملے کو روکنے کے لیے فوری اقدامات بھی کرتی ہے۔ کمپنی کا ماننا ہے کہ جدید دور میں روایتی فائر والز کافی نہیں ہیں، اس لیے اے آئی کا استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اس نئے سکیورٹی فریم ورک کے نفاذ سے صارفین کے ڈیٹا کو مزید محفوظ بنایا جائے گا اور کارپوریٹ سطح پر کاروباری اداروں کو بھی سائبر خطرات سے بچایا جا سکے گا۔ ترک ٹیلی کام کی یہ کوشش اس بات کا ثبوت ہے کہ کمپنی خطے میں ڈیجیٹل انوویشن اور سائبر سکیورٹی کے شعبے میں سب سے آگے ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اے آئی سسٹمز مستقبل کے انٹرنیٹ اور مواصلاتی نیٹ ورکس کی ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوں گے۔