LIVE
Loading Breaking News...

بھارتی فلم آنگ ناگالینڈ سے آسکرز کی دوڑ میں شامل

News Image
ٹورانٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں شاندار کامیابی کے بعد ناگالینڈ سے تعلق رکھنے والی فلم 'آنگ' نے آسکرز کی طرف سفر کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ فلم شمال مشرقی بھارت کی ایک ایسی منفرد اور نایاب دنیا کو عالمی پردے پر لے کر آئی ہے جسے پہلے شاذ و نادر ہی دیکھا گیا تھا۔
بھارتی سنیما کے لیے ایک تاریخی لمحے میں، شمال مشرقی ریاست ناگالینڈ کی پس منظر میں بننے والی فلم 'آنگ' نے بین الاقوامی سطح پر دھوم مچا دی ہے۔ ٹورانٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں ایک بڑی کامیابی سمیٹنے کے بعد، اب اس فلم نے باضابطہ طور پر اکیڈمی ایوارڈز یعنی آسکرز کی دوڑ کی طرف اپنا سفر شروع کر دیا ہے۔ یہ فلم نہ صرف بھارتی سنیما کے تنوع کو اجاگر کرتی ہے بلکہ عالمی ناظرین کو ایک ایسی ثقافت اور خطے سے متعارف کراتی ہے جو اب تک مین سٹریم سینما کی نظروں سے اوجھل تھی۔ فلم 'آنگ' کی کہانی اور اس کی ہدکاری نے ناگالینڈ کے روایتی طرزِ زندگی، سماجی اقدار اور وہاں کے باسیوں کو درپیش چیلنجز کو انتہائی خوبصورتی سے پردہ سکرین پر اتارا ہے۔ ناقدین کے مطابق، فلم کی کہانی میں پائی جانے والی گہرائی اور خطے کی حقیقی عکاسی نے بین الاقوامی ججوں اور ناظرین کو یکساں طور پر متاثر کیا ہے۔ ٹورانٹو میں ملنے والی پذیرائی کے بعد اب اس فلم سے یہ توقعات کی جا رہی ہیں کہ یہ عالمی پلیٹ فارم پر بھارتی خطے کی نمائندگی کرتے ہوئے اکیڈمی ایوارڈز میں بھی نمایاں مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہو گی۔ شمال مشرقی بھارت کی فلمی تاریخ میں یہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس خطے کی کہانیوں کو شاذ و نادر ہی بین الاقوامی سطح پر اس نوعیت کی پذیرائی ملی ہے۔ فلم کے پروڈیوسرز اور ہدایت کار اس کامیابی پر بے حد پرجوش ہیں اور انہیں امید ہے کہ آسکرز کی طرف یہ سفر ناگالینڈ کے دیگر فنکاروں اور فلم سازوں کے لیے بھی نئے دروازے کھولے گا۔ جیسے جیسے اس فلم کا سفر آگے بڑھ رہا ہے، دنیا بھر کے فلم بینوں کی نگاہیں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ نایاب اور طاقتور کہانی آسکر کی نامزدگیوں میں بھی اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔