World
ارجنٹائن میں غربت کی شرح میں اضافہ، صدر میلئی کو مشکلات کا سامنا
ارجنٹائن میں صدر زೇವੀਅਰ میلئی کی معاشی پالیسیوں کے دوران غربت کی شرح میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو اب 32 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ معاشی دباؤ میں اس اضافے کو آنے والے انتخابات میں صدر کے لیے سیاسی مشکلات کا سبب قرار دیا جا رہا ہے۔
ارجنٹائن میں صدر زೇವੀਅਰ میلئی کی حکومت کے تحت معاشی اصلاحات اور سختی کے اقدامات کے نفاذ کے بعد غربت کی شرح میں تشویشناک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک میں غربت بڑھ کر 32 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جس سے عامتہ الناس کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی اور قوت خرید میں کمی کی وجہ سے متوسط اور غریب طبقہ شدید ترین دباؤ کا شکار ہے۔
حالیہ برسوں میں متعارف کرائے جانے والے مالیاتی اور ساختیاتی اصلاحاتی پیکجز کے اثرات اب براہ راست عوام کی روزمرہ زندگی پر ظاہر ہو رہے ہیں۔ اگرچہ حکومت کا مؤقف ہے کہ معیشت کو طویل مدتی استحکام کی طرف لے جانے کے لیے یہ کڑوی گولیاں دینا ضروری تھیں، تاہم عام شہریوں کے لیے روزمرہ کے اخراجات پورے کرنا مشکل ترین ہوتا جا رہا ہے۔ خوراک، توانائی اور بنیادی خدمات کی قیمتوں میں اضافے نے نچلے طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔
غربت کے اس اضافے کو صدر زೇವੀਅਰ میلئی کے سیاسی مستقبل کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر آنے والے مہینوں میں معاشی صورتحال کو سنبھالا نہ گیا اور مہنگائی پر قابو نہ پایا گیا تو یہ صورتحال ان کی آئندہ انتخابی مہم اور دوبارہ منتخب ہونے کی کوششوں کو سخت نقصان پہنچا سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں سیاسی جماعتوں کی طرف سے دباؤ میں مزید اضافے کا امکان ہے۔
حکومتیحکام اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف متبادل حکمت عملیوں پر غور کر رہے ہیں تاکہ کم آمدنی والے طبقات کو کسی حد تک ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ تاہم، بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور ملکی معاشی ماہرین کی جانب سے متنبہ کیا گیا ہے کہ معاشی بحالی کا یہ سفر طویل اور کٹھن ہو گا، جس کے لیے سیاسی استحکام اور مسلسل عوامی تعاون کی اشد ضرورت ہے۔