LIVE
Loading Breaking News...

صرف 24 گھنٹوں میں گھر بنانے والا تھری ڈی پرنٹر متعارف

News Image
محققین نے ایک ایسا نیا اور بڑا تھری ڈی کنکریٹ پرنٹر تیار کیا ہے جو محض چوبیس گھنٹوں کے اندر ایک مکمل گھر تعمیر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کونٹور کرافٹنگ نامی یہ جدید ٹیکنالوجی روبوٹک نوزل کی مدد سے تہوں کی صورت میں مکان کی تعمیر کو خودکار بناتی ہے۔
سائنسی اور تکنیکی شعبے میں ایک بڑی پیش رفت کرتے ہوئے محققین نے ایک ایسا گیارہواں اور عظیم الشان تھری ڈی پرنٹر تیار کر لیا ہے جو محض چوبیس گھنٹوں کے قلیل وقت میں ایک پورا مکان تعمیر کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ تعمیراتی صنعت میں انقلاب برپا کرنے والی اس نئی ٹیکنالوجی کو کونٹور کرافٹنگ کا نام دیا گیا ہے، جو روایتی تعمیراتی طریقوں کو یکسر بدل کر رکھ دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ جدید نظام کسی بھی عمارت کے ڈھانچے کو روایتی بنیادوں اور مہینوں کے طویل کام کے بجائے انتہائی تیزی سے مکمل کرتا ہے۔ اس منفرد تھری ڈی پرنٹر کا بنیادی اصول یہ ہے کہ یہ ایک خاص روبوٹک نوزل کا استعمال کرتا ہے جو کمپیوٹر کی ہدایات کے مطابق درستگی کے ساتھ تہہ بہ تہہ سیمنٹ اور کنکریٹ کی تہیں لگاتا چلا جاتا ہے۔ اس خودکار نظام کی بدولت انسانی غلطی کے امکانات کم سے کم ہو جاتے ہیں اور تعمیراتی مواد کا ضیاع بھی نہیں ہوتا۔ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف وقت کی شدید بچت کرتی ہے بلکہ مزدوروں کی لاگت میں بھی نمایاں کمی لاتی ہے، جس سے کم لاگت رہائشی منصوبوں کے لیے نئے راہیں کھلتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس جدید ایجاد سے دنیا بھر میں سستے اور پائیدار گھروں کی فراہمی میں مدد ملے گی، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں قدرتی آفات کے بعد فوری رہائش کی ضرورت ہوتی ہے۔ روایتی تعمیراتی صنعت جو کہ اپنے سست رفتار اور زیادہ لاگت والے طریقوں کے لیے جانی جاتی ہے، اس تھری ڈی پرنٹر کے آنے سے ایک نئے اور جدید دور میں داخل ہو رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں توقع کی جا رہی ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ تجارتی اور رہائشی پیمانے پر بڑے پیمانے پر گھروں کی تعمیر کو یقینی بنایا جا سکے۔