LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ شی جن پنگ ملاقات: پاک و ہند اور عالمی تعلقات پر اثرات

News Image
واشنگٹن میں امریکی صدر اور چینی ہم منصب کے درمیان ہونے والی ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے پر زور دیا گیا۔ تاہم، تجارت، تائیوان اور ایران کے امور پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات تاحال برقرار ہیں۔
واشنگٹن ڈی سی میں امریکی صدر اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ایک انتہائی اہم سربراہی ملاقات منعقد ہوئی۔ اس اعلیٰ سطحی ملاقات کا بنیادی مقصد دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان تناؤ کو کم کرنا اور باہمی تعلقات کو ایک مستحکم ڈگر پر لانا تھا۔ فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان کشیدگی عالمی امن اور تجارت کے لیے نقصان دہ ہے، لہذا رابطے کے ذرائع کو کھلا رکھا جانا چاہیے۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تجارتی تعلقات کا تفصیلی جائزہ لیا اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے امکانات پر غور کیا۔ چینی صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عالمی معیشت کے استحکام کے لیے مل کر کام کرنے کے خواہاں ہیں۔ اس کے باوجود، عالمی سطح پر اہمیت کے حامل کئی اہم امور پر دونوں ممالک کے درمیان پائے جانے والے گہرے اختلافات اس ملاقات میں بھی حل نہیں ہو سکے۔ ذرائع کے مطابق تائیوان کے حساس مسئلے اور ایران سے متعلق امور پر دونوں رہنماؤں کے مؤقف میں واضح تضاد پایا گیا۔ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تجارتی پالیسیوں اور پابندیوں کے حوالے سے بھی اختلافات برقرار ہیں جو طویل عرصے سے دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ کی بڑی وجہ بنے ہوئے ہیں۔ دونوں صدور نے ان مسائل کو حل کرنے کے لیے سفارتی سطح پر مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس سربراہی ملاقات سے اگرچہ فوری طور پر تمام تنازعات کا حل نہیں نکل سکا، تاہم دونوں رہنماؤں کی آمادگی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ براہ راست بات چیت کے ذریعے صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچانا چاہتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ اور تجارتی نمائندے ان تمام زیر التوا امور پر مزید بات چیت کریں گے تاکہ باہمی خدشات کو دور کیا جا سکے۔