World
کوسٹا ریکا: وزیرِ خارجہ ٹرمپ سے ملاقات پر برطرف
کوسٹا ریکا کے صدر نے اپنے وزیرِ خارجہ کو امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک غیر منظور شدہ ملاقات میں شرکت کرنے پر عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ یہ فیصلہ نیویارک میں منعقد ہونے والی 'شیلڈ آف دی امریکہ' کے نام سے ایک اہم میٹنگ میں وزیر کی شرکت کے بعد کیا گیا۔
کوسٹا ریکا کی حکومت میں اس وقت ایک اہم سیاسی ہلچل مچ گئی جب ملک کے صدر نے وزیرِ خارجہ کو ان کے عہدے سے برطرف کرنے کا اعلان کیا۔ یہ سخت اقدام ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا جب وزیرِ خارجہ نے امریکہ کے دورے کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک ایسی ملاقات میں شرکت کی تھی جس کی منظوری ملکی صدر اور اعلیٰ حکومتی اداروں سے نہیں لی گئی تھی۔ حکومت کے مطابق یہ قدم ملک کی روایتی خارجہ پالیسی اور سفارتی اصولوں کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق برطرف کیے گئے وزیرِ خارجہ نیویارک میں منعقد ہونے والی 'شیلڈ آف دی امریکہ' کے نام سے ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے گئے تھے۔ اس تقریب کے دوران انہوں نے امریکی رہنما ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی، جو کہ سرکاری سطح پر پہلے سے طے شدہ یا منظور شدہ ایجنڈے کا حصہ نہیں تھی۔ اس غیر اعلانیہ ملاقات کی خبریں سامنے آتے ہی کوسٹا ریکا کے سیاسی حلقوں میں گرما گرم بحث شروع ہو گئی اور اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے بھی اس پر شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا۔
ملکی صدر نے اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطح پر مشاورت کی اور قومی مفادات اور سفارتی نظم و ضبط کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیرِ خارجہ کو فوری طور پر وزارت کے منصب سے ہٹانے کا فیصلہ کیا۔ حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں ملکی قوانین اور سرکاری اجازت کے بغیر اس طرح کے اقدامات کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ کوسٹا ریکا کی حکومت نے واضح کیا ہے کہ ملک کی خارجہ پالیسی کے اصولوں پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا تاکہ عالمی سطح پر ملک کے وقار اور سفارتی اقدار کو برقرار رکھا جا سکے۔