Pakistan
لاہور ہائی کورٹ نے عمران خان کی بہنوں کی نظر بندی پر فیصلہ سنا دیا
لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہنوں کی نظر بندی کے احکامات فوری طور پر معطل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ عدالت نے متعلقہ فریقین سے اس معاملے پر آئندہ سماعت کے لیے جواب طلب کر رکھا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہنوں کی نظربندی کے احکامات کی فوری معطلی کے لیے دائر کردہ درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے۔ عدالت کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سیاسی اور قانونی حلقوں میں اس معاملے پر گرما گرم بحث جاری ہے۔ اس سے قبل پی ٹی آئی کے بانی کی بہنوں ڈاکٹر عظمیٰ خان، نورین نیازی اور علیمہ خان نے راولپنڈی میں اڈیالہ روڈ پر دھرنا بھی دیا تھا جس کے بعد سیاسی سرگرمیاں مزید تیز ہو گئی تھیں۔ لاہور کے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے نورین نیازی اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کو تیس دن کے لیے نظربند کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے جن کے خلاف عدالت سے رجوع کیا گیا تھا۔ دوران سماعت عدالت نے فریقین کے دلائل سنے اور فوری طور پر ان احکامات کو معطل کرنے کی استدعا کو منظور نہیں کیا۔ عدالت نے اس معاملے پر مزید کارروائی اور متعلقہ حکام سے تفصیلی جواب طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ قانونی تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔ پی ٹی آئی کی قیادت اور قانونی ٹیم کی جانب سے اس فیصلے پر اپنے ردعمل میں کہا گیا ہے کہ وہ آئینی اور قانونی جنگ ہر سطح پر جاری رکھیں گے۔ دوسری جانب سرکاری وکلاء نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ نظربندی کے یہ احکامات امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور ممکنہ کشیدگی سے بچنے کے لیے ضابطے کے تحت جاری کیے گئے تھے۔ اس پیش رفت کے بعد ملک میں سیاسی درجہ حرارت میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور تمام نظریں اب آئندہ کی عدلیہ کارروائی پر مرکوز ہیں۔