World
پاکستان کی افغانستان میں کارروائی، ڈرون دراندازی کا منہ توڑ جواب
وفاقی وزیر نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے اپنے دفاع کے حق کو استعمال کرتے ہوئے افغانستان کے اندر دس مقامات پر فضائی کارروائی کی ہے۔ یہ سخت قدم حال ہی میں افغان طالبان کی جانب سے کی جانے والی ڈرون دراندازی کے ردعمل میں اٹھایا گیا ہے۔
اسلام آباد: پاکستان نے افغانستان کی جانب سے حالیہ ڈرون دراندازی کے واقعے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے افغان سرزمین پر موجود دس مختلف مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔ وفاقی وزیر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے یہ فضائی کارروائی اپنے حقِ دفاع کے تحت کی ہے اور ملک کی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق یہ اقدام اسلام آباد کی جانب سے سرحدی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
حالیہ دنوں میں افغان طالبان حکومت کی طرف سے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈرون دراندازی کی گئی تھی جس پر اسلام آباد نے شدید احتجاج ریکارڈ کروایا تھا۔ وزیر موصوف نے واضح کیا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کو ترجیح دی ہے، لیکن جب بھی ملک کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوگا تو ریاست اپنی دفاعی صلاحیت کا بھرپور استعمال کرے گی اور کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
یہ حالیہ فضائی حملے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان سرحدی امور اور سکیورٹی کے معاملات پر پہلے ہی تناؤ پایا جاتا ہے۔ پاکستانی قیادت نے بارہا افغان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے اٹھائے جانے والے یہ اقدامات مکمل طور پر بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس تازہ ترین کشیدگی سے دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات میں مزید سرد مہری آ سکتی ہے تاہم پاکستان کا یہ عزم ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے جغرافیائی دفاع پر کوئی آنچ نہیں آنے دے گا۔ وفاقی حکومت اور عسکری قیادت مل مل کر ملک کی سرحدوں کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں اور کسی بھی غیر قانونی مداخلت کا بھرپور اور فوری جواب دیا جائے گا۔