LIVE
Loading Breaking News...

نیتنیاہو کا دورہ نیویارک اور امریکہ اسرائیل تعلقات میں کشیدگی

News Image
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتنیاہو کا حالیہ دورہ نیویارک واشنگٹن کے ساتھ ان کے تعلقات میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات بین الاقوامی سفارت کاری میں اہم موضوع بنے ہوئے ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتنیاہو کا نیویارک کا حالیہ مختصر دورہ سفارتی حلقوں میں خصوصی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دورہ واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان موجودہ تعلقات میں پائی جانے والی کشیدگی اور باہمی سرد مہری کا واضح ثبوت ہے۔ دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے مابین حالیہ مہینوں میں پالیسیوں کے حوالے سے کافی اختلافات سامنے آئے ہیں جو اب کھل کر سطح پر آرہے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل طویل عرصے سے قریبی اتحادی چلے آ رہے ہیں، تاہم مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال، جنگی حکمت عملی اور انسانی امداد کے امور پر دونوں حکومتوں کے درمیان ہم آہنگی کی کمی دیکھی گئی ہے۔ نیتنیاہو کا یہ طویل کے بجائے انتہائی مختصر قیام اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے مابین موجود خلیج کو پاٹنے کے لیے فی الحال کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس قسم کے دورے دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان بڑھتی ہوئی دوریوں کو نمایاں کرتے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا اور سیاسی ماہرین اس دورے کو ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھ رہے ہیں جہاں اسرائیل کو اپنے روایتی حلیف امریکہ کی طرف سے دباؤ کا سامنا ہے۔ اس صورتحال سے نہ صرف دو طرفہ سفارت کاری متاثر ہو رہی ہے بلکہ خطے کے وسیع تر امن عمل پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے تعلقات کی نوعیت خطے کی سیاست کا رخ طے کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی، بالخصوص جب عالمی سطح پر جنگ بندی اور انسانی بحران کے حل کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔