World
یمن میں پھنسے پاکستانی ملاحوں کی وطن واپسی کے لیے اپیل
یمن میں پھنسے ہوئے چودہ پاکستانی ملاحوں نے وطن واپسی کے لیے حکومتِ پاکستان سے فوری مداخلت اور سفارتی مدد کی اپیل کی ہے۔ ان ملاحوں کو وہاں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور انہوں نے وزارتِ خارجہ سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
یمن میں شدید مشکلات کا شکار چودہ پاکستانی ملاحوں نے اپنی حکومت سے فوری سفارتی مدد اور وطن واپسی کے لیے اقدامات کرنے کی پرزور اپیل کی ہے۔ یہ تمام ملاح طویل عرصے سے یمن کے مختلف علاقوں اور بندرگاہوں پر پھنسے ہوئے ہیں جہاں انہیں روزمرہ کی زندگی کے ساتھ ساتھ خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات کے حصول میں بھی شدید دشواریوں کا سامنا ہے۔ متاثرہ ملاحوں اور ان کے خاندانوں کا کہنا ہے کہ وہ سخت ذہنی دباؤ سے گزر رہے ہیں اور حالات دن بہ دن ان کے لیے مزید ابتر ہوتے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ تمام افراد روزگار کے سلسلے میں یمن گئے تھے لیکن وہاں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال اور دیگر انتظامی و قانونی مسائل کی وجہ سے وہیں پھنس کر رہ گئے۔ ملاحوں نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے حکومتِ پاکستان اور وزارتِ خارجہ سے اپیل کی ہے کہ وہ یمن میں موجود پاکستانی سفارت خانے کے ذریعے فوری طور پر عملی اقدامات اٹھائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت سفارتی کوششیں نہ کی گئیں تو ان کی زندگیوں کو مزید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں اور ان کی صحت بھی تیزی سے گر رہی ہے۔
اس سنگین صورتحال کے پیش نظر پاکستانی حکام پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ فوری طور پر یمن کے متعلقہ حکام سے رابطہ کریں تاکہ ان چودہ پاکستانی شہریوں کے اخراج کے دستاویزات جلد از جلد تیار کیے جا سکیں۔ متاثرہ خاندانوں نے وزیراعظم پاکستان اور وفاقی وزیرِ خارجہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس انسانی مسئلے پر ذاتی دلچسپی لیں اور ان کے پیاروں کی بحفاظت پاکستان واپسی کو یقینی بنائیں۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا تاہم توقع کی جا رہی ہے کہ سفارتی سطح پر ان ملاحوں سے رابطہ قائم کرنے اور انہیں امداد فراہم کرنے کے لیے جلد ہی باضابطہ اقدامات کا آغاز کیا جائے گا تاکہ اس بحران کا پرامن اور فوری حل نکالا جا سکے اور پاکستانی شہریوں کو وطن واپس لایا جا سکے۔