World
امریکہ اور ایران کشیدگی، جنگ بحر ہند تک پھیلنے کا خدشہ
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے کوئی نیا حملہ کیا تو تنازعہ خطے سے نکل کر بحر ہند تک پھیل سکتا ہے۔ ایرانی حکام نے سابق امریکی صدر کی دھمکیوں کو بین الاقوامی جرائم کا اعتراف قرار دیا ہے۔
تہران: ایران کے اعلیٰ حکام نے سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کی کوشش کی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی قیادت کے مطابق اس صورتحال میں جاری کشیدگی صرف خطے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ جنگ کا دائرہ کار پھیل کر بحر ہند تک بھی جا سکتا ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر اور دیگر عسکری حکام نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا اور جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے بھی امریکہ کو کسی بھی ممکنہ فوجی اقدام کے خلاف شدید ردعمل کی وارننگ دی ہے۔ ایرانی میڈیا اور ذرائع کے مطابق یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب امریکی قیادت کی جانب سے ایران کو دھمکیاں دی گئیں جنہیں تہران نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور بین الاقوامی جرائم کا کھلا اعتراف قرار دیا۔ ایرانی حکام کا ماننا ہے کہ امریکہ کی جانب سے دھونس اور دھمکیوں کی سیاست خطے کے امن کو تباہ کر رہی ہے اور اس کے اثرات عالمی بحری تجارت اور سلامتی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری لفظی جنگ اور بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے مشرق وسطیٰ سمیت بحر ہند کے خطے میں بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ بحر ہند عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کا ایک انتہائی اہم بحری راستہ ہے، اور اگر تنازعہ اس خطے تک پھیلتا ہے تو عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی لائنز کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ دنیا بھر کے ممالک اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور سفارتی سطح پر تناؤ کو کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔