Pakistan
لاہور ہائی کورٹ نے عمران خان کی بہنوں کی نظر بندی پر کیا فیصلہ دیا؟
لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہنوں نورین اور عظمیٰ کی نظر بندی کے احکامات فوری طور پر معطل کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ عدالت نے اس معاملے پر متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ کی سماعت تک جواب طلب کر لیا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہنوں نورین اور عظمیٰ کی نظر بندی کے احکامات کو فوری طور پر معطل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ عدالتِ عالیہ نے اس حوالے سے دائر کی جانے والی درخواست پر فوری ریلیف دینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کر دیے ہیں اور جواب طلب کیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں سیاسی سرگرمیاں اور قانونی جنگیں عروج پر ہیں۔
دوسری جانب، پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں انسانی حقوق کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی جانب سے سابق وزیر اعظم عمران خان کے خاندان کے افراد اور پارٹی کارکنوں کی مبینہ جبری یا غیر قانونی نظر بندی کو انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات ملک میں جمہوری اقدار اور بنیادی آئینی حقوق کے منافی ہیں۔
عمران خان کی دوسری بہن علیمہ خانم کی گرفتاری اور دیگر رہنماؤں کی مسلسل مشکلات کے باعث تحریک انصاف نے حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔ پی ٹی آئی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حکومت سیاسی انتقام کی آگ میں تمام جمہوری اصولوں کو پس پشت ڈال رہی ہے، جبکہ قانونی محاذ پر پارٹی کے وکلاء ہر ممکن آئینی راستہ اختیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ان گرفتاریوں اور نظر بندیوں کو چیلنج کیا جا سکے
عدالت کی جانب سے نظر بندی کے احکامات فوری طور پر معطل نہ کیے جانے کے بعد اب یہ مقدمہ مزید قانونی کارروائی کے لیے آگے بڑھے گا۔ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سماعت پر اس معاملے کی مزید گہرائی سے سماعت کی جائے گی، جس سے یہ واضح ہو گا کہ عدالت اس تنازع پر کیا حتمی فیصلہ صادر کرتی ہے۔