Education
پنجاب میں نیا تعلیمی نصاب، کتابوں کا بوجھ 25 فیصد کم
پنجاب حکومت نے بچوں پر تعلیمی دباؤ کم کرنے کے لیے نئے پرائمری نصاب کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت نصابی کتب کے بوجھ میں پچیس فیصد کمی کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت منظور کیے جانے والے اس نصاب میں مونٹیسری تا جماعت پنجم کے طلباء کے لیے کیو آر کوڈز پر مبنی ہلکی کتابیں متعارف کروائی جائیں گی۔
حکومت پنجاب نے صوبے کے سرکاری اور نجی اسکولوں کے تعلیمی نظام میں ایک اہم اور انقلابی اصلاحات کا آغاز کرتے ہوئے نئے پرائمری نصاب کی منظوری دے دی ہے۔ اس نئے تعلیمی فریم ورک کا بنیادی مقصد معصوم طلباء پر بستہ اور کتابوں کے بھاری بوجھ کو کم کرنا ہے تاکہ وہ خوشگوار ماحول میں بہتر تعلیم حاصل کر سکیں۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے نصابی کتابوں کے مجموعی وزن میں پچیس فیصد تک واضح کمی واقع ہوگی۔
نئے نصاب کے تحت مونٹیسری سے لے کر جماعت پنجم تک کے طلباء کے لیے ہلکی کتابیں تیار کی جا رہی ہیں جن میں جدید ٹیکنالوجی کو بھی بھرپور انداز میں شامل کیا گیا ہے۔ کتابوں پر کیو آر کوڈز (QR Codes) درج ہوں گے جن کی مدد سے طلباء اور اساتذہ ڈیجیٹل مواد، اسباق کی ویڈیوز اور اضافی تعلیمی وسائل تک با آسانی رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے نہ صرف بچوں کی درسی کتب پر روایتی انحصار کم ہوگا بلکہ ان میں سیکھنے کی صلاحیت بھی بہتر ہوگی۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں اس نئے نصاب کی باقاعدہ منظوری دی گئی ہے۔ حکومت نے جماعت اول سے لے کر بارہویں جماعت تک کے تعلیمی ڈھانچے میں مصنوعی ذہانت (AI) اور جدید عصری تقاضوں کو ہم آہنگ کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ اپریل دو ہزار ستائیس سے پنجاب بھر کے اسکولوں میں اس نئے نصاب کا باقاعدہ نفاذ کیا جائے گا جس سے صوبے کے تعلیمی معیار میں نمایاں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔
ماہرین تعلیم اور والدین کی جانب سے حکومت کے اس فیصلے کو بے حد سراہا گیا ہے کیونکہ طویل عرصے سے بچوں کے بھاری بستوں کے صحت پر پڑنے والے منفی اثرات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا تھا۔ نئی اصلاحات سے نہ صرف بچوں کا بچپن محفوظ ہوگا بلکہ وہ جدید ڈیجیٹل دنیا کے تقاضوں سے بھی ہم آہنگ ہو سکیں گے۔ محکمہ تعلیم کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر تمام نصابی کتب کی تیاری اور اساتذہ کی تربیت کا عمل مکمل کرے۔