Entertainment
کم کارڈیشین کا نیا ریئلٹی شو ٹیم مامز اور امریکی یوتھ اسپورٹس
معروف امریکی شخصیت کم کارڈیشین کا نیا ریئلٹی شو 'ٹیم مامز: بیس بال' حال ہی میں ریلیز کیا گیا ہے جو بچوں کے کھیلوں میں ضرورت سے زیادہ بڑھتے ہوئے جنون اور اخراجات پر روشنی ڈالتا ہے۔ یہ شو یوتھ اسپورٹس انڈسٹری کی تلخ حقیقتوں اور والدین کے جارحانہ رویوں کو ناظرین کے سامنے لاتا ہے۔
معروف امریکی میڈیا پرسنالٹی اور کاروباری شخصیت کم کارڈیشین کی پروڈکشن میں بننے والا نیا ریئلٹی شو 'ٹیم مامز: بیس بال' اس وقت ناظرین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہ شو امریکی یوتھ اسپورٹس انڈسٹری میں پائی جانے والی غیر معمولی زیادتیوں، بے تحاشہ اخراجات اور والدین کے رویوں کے گرد گھومتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس شو نے بچوں کے کھیلوں میں پیدا ہونے والی اس دوڑ کو بے نقاب کیا ہے جہاں کھیل کا اصل مقصد کہیں پیچھے رہ جاتا ہے اور مقابلے بازی اور فینٹسی کلچر سر چڑھ کر بولتا ہے۔
اس نئے ریئلٹی شو کو مختلف ناقدین کی جانب سے ملے جلے تاثرات ملے ہیں۔ کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ شو اسکٹس ڈیل کے ماحول اور معاشرتی رویوں کو انتہائی دلچسپ انداز میں پیش کرتا ہے، جبکہ کچھ تبصرہ نگاروں نے اس میں دکھائے جانے والے والدین کے جارحانہ رویوں کو تشویشناک قرار دیا ہے۔ شوز کے دوران چیختے چلاتے والدین اور بچوں پر پڑنے والے نفسیاتی دباؤ کو بھی کھل کر زیر بحث لایا گیا ہے، جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ یوتھ اسپورٹس اب محض تفریح نہیں بلکہ ایک بڑی انڈسٹری بن چکی ہے۔
امریکی میڈیا میں اس شو کے حوالے سے ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا کم کارڈیشین کا یہ پروجیکٹ معاشرے کی درست عکاسی کرتا ہے یا پھر ریئلٹی ٹی وی کی ریٹنگ بڑھانے کے لیے معاملات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود، کھیلوں کے شعبے سے وابستہ ماہرین اور عام ناظرین اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ بچوں کے کھیلوں میں کمرشل ازم اور حد سے زیادہ مسابقت کے منفی اثرات کو اب سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔