World
برطانوی وزیر خارجہ کا ایران کو انتباہ، سرزمین پر دشمنی برداشت نہیں
برطانوی وزیر خارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصب سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ برطانیہ اپنی سرزمین پر ایران سے جڑے گروہوں کی کسی بھی خطرے کی سرگرمی کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔ انہوں نے برطانوی یہودی برادری پر حملوں سمیت تمام خطرات سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے اپنے ایرانی ہم منصب کے ساتھ حالیہ رابطے کے دوران دوٹوک الفاظ میں واضح کر دیا ہے کہ برطانوی حکومت اپنی سرزمین پر کسی بھی قسم کی دشمنی پر مبنی سرگرمیوں کو ہرگز برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ برطانیہ کی سلامتی کو نقصان پہنچانے والے ایرانی عناصر کے خلاف سخت ترین اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ برطانوی وزیر خارجہ نے ایرانی حکام پر واضح کیا کہ مملکت کی حدود کے اندر امن عامہ کو خراب کرنے اور ریاستی سلامتی کو چیلنج کرنے والے عناصر کے خلاف حکومت کا عزم غیر متزلزل ہے۔
اس گفتگو کے دوران ڈیوڈ ملی بینڈ نے خاص طور پر برطانوی سرزمین پر ایران سے جڑے مختلف گروہوں کی طرف سے لاحق ہونے والے سکیورٹی خطرات کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ برطانیہ میں مقیم تمام شہریوں کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت یا نرمی برتی نہیں جائے گی۔ برطانوی وزیر خارجہ نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ برطانوی یہودی برادری کو نشانہ بنانے والے یا ان کے خلاف کسی بھی قسم کی سازش میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق فوری اور سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
حالیہ برسوں کے دوران برطانیہ اور ایران کے تعلقات میں متعدد سفارتی کشیدگیوں کا سامنا رہا ہے، جن میں سایہ جنگ اور انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر ملکی سلامتی کے معاملات سرفہرست ہیں۔ برطانوی حکام کا ماننا ہے کہ بیرونی عناصر کی جانب سے مقامی اقلیتوں اور بالخصوص برطانوی یہودی برادری کو نشانہ بنانا ایک سنگین جرم ہے جس پر سمجھوتہ ناممکن ہے۔ برطانوی حکومت کی جانب سے اس بلند آہنگ مؤقف کا مقصد ایران کو واضح پیغام دینا ہے کہ برطانیہ کی خودمختاری کا مکمل دفاع کیا جائے گا۔
سفارتی ماہرین کے مطابق برطانوی وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کے بادل منڈلا رہے ہیں اور مغربی ممالک اپنی اندرونی سلامتی کے حوالے سے انتہائی حساس ہو چکے ہیں۔ برطانیہ نے یہ باور کرا دیا ہے کہ سفارتی تعلقات اپنی جگہ لیکن ملکی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے معاملے پر کسی بھی قسم کا دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔ ایرانی وزارت خارجہ کو دی گئی اس سخت تنبیہ کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید سفارتی ہلچل متوقع ہے۔