World
شی جن پنگ کا دورہ امریکہ: ریڈ کارپٹ استقبال لیکن اہم مطالبات تشنہ طلب
چینی صدر شی جن پنگ کے دورے کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شاندار استقبال کیا گیا تاہم تجارت، ٹیکنالوجی اور تائیوان جیسے اہم امور پر بیجنگ کو وہ مطالبات منظور کرانے میں مکمل کامیابی نہیں ملی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں اگرچہ باہمی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا تاہم بنیادی تزویراتی اور معاشی اختلافات بدستور برقرار ہیں۔
واشنگٹن میں چینی صدر شی جن پنگ کا بھرپور اور روایتی ریڈ کارپٹ استقبال کیا گیا، جس میں دونوں بڑی معیشتوں کے درمیان تعلقات کو بہتری کی طرف لے جانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ تاہم اس پُرتکلف استقبال کے پس منظر میں ہونے والے سفارتی مذاکرات سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ بیجنگ اپنی ترجیحات کے لحاظ سے وہ تمام اہداف حاصل نہیں کر سکا جن کی وہ توقع کر رہا تھا۔ چینی قیادت کی جانب سے تجارت، جدید ٹیکنالوجی تک رسائی اور تائیوان کے حساس ترین مسئلے پر ٹھوس پیشرفت کی امید لگائی گئی تھی لیکن امریکی فریق کی جانب سے سخت گیر مؤقف کے باعث مطلوبہ کامیابیاں حاصل نہ ہو سکیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس ملاقات میں اگرچہ دونوں اطراف سے کشیدگی میں کمی لانے کے لیے سفارتی راہداریوں کو کھلا رکھنے پر زور دیا گیا، تاہم معاشی اور تکنیکی پابندیوں کے حوالے سے امریکی پالیسی میں کوئی بڑی نرمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ چین اور امریکہ کے مابین عالمی سپلائی چینز اور سیمی کنڈکٹرز جیسی جدید ٹیکنالوجیز پر کشیدگی بدستور برقرار ہے، جو کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک بڑا کانٹا بنی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ تائیوان کے معاملے پر بھی واشنگٹن نے اپنے پرانے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے بیجنگ کی امیدوں کے برعکس سخت سفارتی حدود کا پاس رکھا۔ اس صورتحال سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اعلیٰ سطح کے دورے اور پرتکلف ضیافتیں علامتی طور پر تعلقات کو بہتر بنانے کا تاثر ضرور دیتی ہیں، لیکن عالمی طاقتوں کے درمیان بنیادی تزویراتی مفادات کے اختلافات اتنی جلدی ختم نہیں ہوتے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا دونوں ممالک کے نچلی سطح کے مذاکرات میں ان مسائل کا کوئی قابلِ عمل حل نکلتا ہے یا پھر تجارتی اور تکنیکی محاذ آرائی کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا۔