LIVE
Loading Breaking News...

وائٹ ہاؤس عشائیہ امریکہ چین تعلقات اور اندرونی احوال

News Image
بی بی سی کے صحافی برنڈ ڈیبس مین جونیئر نے وائٹ ہاؤس میں منعقدہ پُرتکلف عشائیے کی اندرونی کہانی بیان کی ہے۔ اس خصوصی تقریب کے دوران امریکہ اور چین کے رہنماؤں نے اہم تقاریر بھی کیں۔
امریکہ کے دارالحکومت واشنگتن میں واقع وائٹ ہاؤس میں ایک انتہائی پُرتکلف عشائیے کا انعقاد کیا گیا جس نے دنیا بھر کی میڈیا کی توجہ حاصل کی۔ اس تاریخی اور پُروقار تقریب میں امریکہ اور چین کے چوٹی کے رہنماؤں نے شرکت کی اور دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے اہم خیالات کا اظہار کیا۔ بی بی سی کے نامہ نگار برنڈ ڈیبس مین جونیئر نے اس تقریب میں خصوصی طور پر شرکت کی اور وہاں کے ماحول کا قریب سے مشاہدہ کیا۔ عشائیے کے دوران دونوں ممالک کے رہنماؤں نے اپنے افتتاحی اور کلیدی خطابات میں باہمی تعاون، عالمی معیشت اور سفارتی تعلقات کی اہمیت پر زور دیا۔ تقریب کا ماحول بظاہر کافی پرسکون اور دوستانہ تھا، جہاں دونوں طرف کے اعلیٰ سفارت کار اور وزراء بھی موجود تھے۔ اس طرح کی تقریبات کا مقصد عالمی سطح پر کشیدگی کو کم کرنا اور سفارتی سطح پر مذاکرات کے نئے راستے تلاش کرنا ہوتا ہے۔ صحافی کے مطابق، وائٹ ہاؤس کے اندر ہونے والی اس ملاقات کی تیاریاں کئی دنوں سے جاری تھیں اور سیکیورٹی کے بھی انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ عشائیے کے دوران روایتی کھانوں کے ساتھ ساتھ ثقافتی اور سیاسی نوعیت کے امور پر بھی غیر رسمی گفتگو کا سلسلہ جاری رہا۔ عالمی امور کے ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی ڈینر ڈپلومیسی دونوں اقتصادی طاقتوں کے درمیان برف پگھلانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگرچہ دنیا بھر میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف امور پر تناؤ پایا جاتا ہے، تاہم اس قسم کی اعلیٰ سطحی تقریبات عالمی امن اور استحکام کے لیے ایک مثبت پیشرفت کے طور پر دیکھی جاتی ہیں۔ اس عشائیے نے یہ ثابت کیا کہ تمام تر اختلافات کے باوجود اعلیٰ سطحی بات چیت اور میل جول جاری رکھنا بین الاقوامی سیاست کی ایک بنیادی ضرورت ہے۔