LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ سے ممکنہ فوجی خطرہ، کینیڈین عوام اور رہنماؤں کا ردعمل

News Image
کینیڈین وزیراعظم کی جانب سے نیویارک ٹائمز کو دیئے گئے انٹرویو میں امریکہ کی طرف سے ممکنہ فوجی کارروائی کے امکان پر بات کی گئی ہے۔ اس بیان کے بعد کینیڈا بھر میں عوامی اور سیاسی سطح پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
کینیڈا کے سیاسی حلقوں اور عوام میں اس وقت شدید ہلچل مچ گئی جب کینیڈین وزیراعظم کی جانب سے یہ انکشاف کیا گیا کہ ان کے ملک نے امریکہ کی طرف سے کسی بھی ممکنہ عسکری یا فوجی کارروائی کے امکان پر غور کیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا بالخصوص معروف اخبار نیویارک ٹائمز کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں جب یہ نکتہ اٹھایا گیا تو کینیڈا سمیت پوری دنیا میں اس پر چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں۔ روایتی طور پر دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی دوستانہ اور قریبی سمجھے جاتے ہیں، تاہم حالیہ تجارتی اور پالیسی اختلافات کی وجہ سے پیدا ہونے والی کشیدگی نے ایک نئے تنازع کو جنم دیا ہے۔ اس بیان کے سامنے آنے کے بعد کینیڈا کے اندرونی حلقوں میں ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ جہاں ایک طرف اپوزیشن جماعتوں نے حکومت سے اس حساس معاملے پر پارلیمنٹ میں تفصیلی بریفنگ کا مطالبہ کیا ہے، وہیں دوسری طرف عام شہریوں میں بھی اس بات پر شدید حیرت پائی جاتی ہے کہ دنیا کے دو قریبی ترین اتحادی ممالک کے درمیان اس نوعیت کے خدشات کیسے پیدا ہو سکتے ہیں۔ دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ ایسی کسی کارروائی کا امکان انتہائی کم اور دور از کار ہے، لیکن اس کے باوجود اعلیٰ ترین سطح پر اس کا ذکر کیا جانا دونوں ممالک کے تعلقات میں بڑھتی ہوئی سرد مہری کی عکاسی کرتا ہے۔ حکومتی ترجمانوں نے اس معاملے پر احتیاط سے کام لیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کینیڈا اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کا دفاع کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اور تمام امور کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ اس کے باوجود، بین الاقوامی امور کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس بیان کے بعد امریکہ اور کینیڈا کے دو طرفہ تعلقات پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر رابطے متوقع ہیں تاکہ پیدا ہونے والی غلط فہمیوں اور خدشات کا ازالہ کیا جا سکے اور باہمی تعاون کے روایتی ماحول کو بحال رکھا جا سکے۔