World
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا تیسرا دن: واک آؤٹ اور بحران
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے تیسرے روز مختلف عالمی بحرانوں، شدید ہنگامہ آرائی اور واک آؤٹ کے مناظر دیکھنے میں آئے۔ اجلاس کے دوران درجنوں مندوبین نے اسرائیلی وزیر اعظم کے خطاب کے دوران واک آؤٹ کیا جبکہ یمن اور کویت نے بھی اہم عالمی امور پر آواز بلند کی۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے تیسرے روز کے اجلاس میں دنیا بھر سے آئے ہوئے رہنماؤں کے درمیان کئی اہم اور سنگین امور پر بحث کی گئی، تاہم کارروائی کے دوران گہرے بحرانوں، شدید ہنگامہ آرائی اور احتجاجی واک آؤٹ کے مناظر نے سب کی توجہ حاصل کر لی۔ اجلاس کا ماحول اس وقت انتہائی کشیدہ ہو گیا جب مختلف ممالک کے مندوبین نے اہم تقاریر کے دوران احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے ہال سے واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔
ذرائع کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم کے خطاب کے موقع پر ہال میں موجود درجنوں مندوبین نے اپنی نشستیں چھوڑ دیں اور احتجاجاً باہر چلے گئے۔ اس اقدام سے عالمی سطح پر جاری کشیدگی اور مختلف ممالک کے مابین موجود گہرے سفارتی اختلافات کھل کر سامنے آ گئے۔ مندوبین کی جانب سے اس احتجاج کو مظلومین کے ساتھ اظہار یکجہتی اور موجودہ صورتحال پر شدید ناپسندیدگی کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، یمن کی حکومت نے اس عالمی فورم کا استعمال کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے فوری مدد اور تعاون کی اپیل کی۔ یمنی نمائندوں کا کہنا تھا کہ ملک کو اس وقت شدید ترین انسانی و معاشی بحران کا سامنا ہے، اور اگر عالمی سطح پر فوری اقدامات نہ اٹھائے گئے تو صورتحال مزید ابتر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے دنیا بھر کے ممالک سے اپیل کی کہ وہ یمن کے عوام کی بحالی کے لیے عملی قدم اٹھائیں۔
علاوہ ازیں، کویت کے نمائندے نے بھی اپنے خطاب میں خطے کو درپیش خطرات اور دھمکیوں کے خلاف سخت مؤقف اپنایا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ علاقائی سلامتی کو نقصان پہنچانے والی سازشوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور امن کے قیام کے لیے تمام فریقین کو ذمہ دارانہ رویہ اپنانا ہوگا۔ تیسرے روز کے ان تمام واقعات نے ایک بار پھر اقوام متحدہ کی افادیت اور عالمی تنازعات کے حل میں اس کے کردار کو زیر بحث لے آئے ہیں۔