World
جاپان میں غیر ملکیوں کے لیے مستقل رہائش کے قوانین سخت
جاپان نے سیاسی رجحانات میں تبدیلی کے پیش نظر غیر ملکیوں کے لیے مستقل رہائش کے ضوابط کو سخت کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اس نئی تبدیلی سے ملک میں مقیم ہزاروں غیر ملکیوں کے مستقبل کے بارے میں خدشات اور غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
ٹوکیو: جاپان کی جانب سے ملک میں مقیم غیر ملکیوں کے لیے مستقل رہائش کے قوانین کو مزید سخت کرنے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ سیاسی منظر نامے میں دائیں بازو کے بڑھتے ہوئے رجحان اور پالیسیوں کے تناظر میں یہ قدم اٹھایا جا رہا ہے، جس کے بعد جاپان میں طویل عرصے سے آباد اور نئے آنے والے غیر ملکیوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے اندرونی حالات اور بدلتے ہوئے معاشرتی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے امیگریشن کے ضوابط میں یہ اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔
نئے مجوزہ قوانین کے تحت مستقل رہائش (Permanent Residency) کا حق حاصل کرنے کے لیے شرائط کو پہلے سے زیادہ کٹھن بنایا جا رہا ہے۔ اس میں ٹیکسوں کی ادائیگی کا سخت ریکارڈ، آمدنی کے مخصوص ذرائع، اور قانونی تقاضوں کی سخت پاسداری شامل ہے۔ ماضی میں جاپان میں مستقل رہائش کا حصول نسبتاً آسان سمجھا جاتا تھا، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو طویل عرصے سے ملک میں خدمات انجام دے رہے تھے یا یہاں برسرِ روزگار تھے۔ تاہم، تازہ ترین ترامیم کے نفاذ سے اس عمل میں کئی نئی رکاوٹیں حائل ہو جائیں گی، جن کا سامنا دنیا بھر سے آئے ہوئے تارکین وطن کو کرنا پڑے گا۔
اس فیصلے کے بعد غیر ملکی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جاپان میں پہلے ہی آبادی میں کمی اور افرادی قوت کی شدید قلت کا بحران پایا جاتا ہے، اور ایسے وقت میں قوانین کو سخت کرنے سے ہنر مند غیر ملکیوں کا رجحان اس ملک کی طرف کم ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب، حکومتی حلقوں کا موقف ہے کہ یہ اقدامات ملکی مفاد اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائے جا رہے ہیں تاکہ ملک کے نظام کو مزید منظم کیا جا سکے، جس پر عمل درآمد آنے والے مہینوں میں متوقع ہے۔