World
فری فلسطین مارچ میں یہودی مظاہرین کی شرکت اور نیتن یاہو پر تنقید
فری فلسطین کے حالیہ مارچ میں بڑی تعداد میں یہودی مظاہرین نے بھی شرکت کی اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی پالیسیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یہ مظاہرہ فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے نکالا گیا تھا۔
عالمی دارالحکومتوں میں فلسطین کے حق میں نکالے جانے والے حالیہ مظاہروں میں ایک انتہائی اہم اور چشم کشا منظر دیکھنے میں آیا ہے، جہاں بڑی تعداد میں یہودی مظاہرین نے بھی 'فری فلسطین' مارچ میں شرکت کی۔ یہ مظاہرین اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی پالیسیوں کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے تھے اور انہوں نے صیہونی حکومت کے اقدامات کو کھلے الفاظ میں مسترد کیا۔ الجزیرہ کی نمائندہ ایما ودھرو نے اس تاریخی مارچ کی کوریج کرتے ہوئے بتایا کہ مظاہرے کے دوران شرکاء کا جذبہ دیدنی تھا اور اس میں ہر مکتبہ فکر کے افراد نے شرکت کی۔ یہودی مظاہرین کا کہنا تھا کہ صیہونی حکومت کے اقدامات پوری دنیا میں بسنے والے تمام یہودیوں کی نمائندگی نہیں کرتے اور خطے میں جاری کشیدگی کی ذمہ دار موجودہ اسرائیلی قیادت ہے۔ انہوں نے غزہ میں جاری فوجی کارروائیوں کو فوری طور پر بند کرنے اور مظلوم فلسطینیوں کو ان کے بنیادی حقوق دینے کا پرزور مطالبہ کیا۔ اس مارچ میں شریک افراد کا ماننا ہے کہ بین الاقوامی برادری کو اسرائیلی حکومت پر دباؤ ڈالنا چاہیے تاکہ خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہودی برادری کے ایک حصے کی جانب سے اس قسم کے سخت احتجاج اور نیتن یاہو کی مخالفت نے عالمی سطح پر ایک نیا سیاسی بیانیہ جنم دیا ہے، جس سے صیہونی حکومت کی اندرونی اور بیرونی حمایت پر بھی سوالیہ نشان لگ رہے ہیں۔ اس پرامن مگر پرزور مظاہرے میں شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کے نعرے درج تھے۔ اس پیش رفت کو بین الاقوامی میڈیا میں انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے یہ تاثر زائل ہوتا ہے کہ اسرائیل کے تمام شہری اپنی حکومت کی عسکری پالیسیوں کے حامی ہیں۔