World
تگرائے میں زبردستی بھرتی کا خوف، نوجوانوں کی بڑی تعداد میں ہجرت
ایتھوپیا کے علاقے تگرائے میں برسوں کی جنگ کے بعد بھی کشیدگی برقرار ہے، جس کی وجہ سے نوجوان زبردستی جنگ میں شامل کیے جانے کے خوف سے فرار ہو رہے ہیں۔ یہ صورتحال خطے میں پائیدار امن کے قیام کے حوالے سے سنگین خدشات کو جنم دے رہی ہے۔
ایتھوپیا کے تنازع سے دوچار علاقے تگرائے میں ایک بار پھر خوف و ہراس کا ماحول پایا جاتا ہے جہاں برسوں کی خونریز جنگ کے بعد بھی سیاسی اور عسکری کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق اس غیر یقینی اور کشیدہ صورتحال کے پیش نظر نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے علاقے سے ہجرت کرنا شروع کر دی ہے۔ نوجوانوں میں یہ شدید خوف پایا جاتا ہے کہ انہیں کسی بھی وقت دوبارہ زبردستی جنگ یا عسکری کارروائیوں میں شامل کر لیا جائے گا، جس سے ان کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ علاقائی مبصرین کا کہنا ہے کہ امن معاہدے کے باوجود زمینی حقائق تاحال تشویشناک ہیں۔ تگرائے میں پائیدار امن کی بحالی کے لیے بین الاقوامی سطح پر کوششیں تو کی جا رہی ہیں لیکن مقامی سطح پر اعتماد کا فقدان اور سکیورٹی خدشات بدستور برقرار ہیں۔ نوجوان طبقہ جو پہلے ہی جنگ کے تباہ کن اثرات کا سامنا کر چکا ہے، اب اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے نقل مکانی کو ہی واحد راستہ سمجھ رہا ہے۔ اس صورتحال سے نہ صرف انسانی بحران کے مزید گہرے ہونے کا خدشہ ہے بلکہ خطے میں طویل مدتی استحکام کے حوالے سے بھی سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ مقامی آبادی اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ نوجوانوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کریں اور زبردستی بھرتیوں کے خدشات کو دور کرنے کے لیے شفاف ضمانتیں فراہم کریں تاکہ مزید انسانی ہجرت کو روکا جا سکے اور خطے کو ایک اور تنازع کی لپیٹ میں آنے سے بچایا جا سکے۔