LIVE
Loading Breaking News...

سعودی تنصیبات پر حملے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اچھال

News Image
یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کی اہم تنصیبات پر حملے کے دعوے کے بعد خام تیل کی عالمی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت ایک سو چھ ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے جس سے دنیا بھر میں توانائی کے بحران کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کی اہم ترین تیل تنصیبات پر کامیاب حملے کے دعوے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر زبردست تیزی دیکھی گئی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اس تازہ واقعے کے بعد برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت ایک سو چھ ڈالر سے بھی تجاوز کر گئی ہے، جس نے دنیا بھر کے معاشی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر رسد کے نظام پر شدید دباؤ پڑ سکتا ہے۔ حوثی باغیوں کے ترجمان کی طرف سے جاری کردہ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب میں واقع آرامکو کی تنصیبات کو ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا۔ تاہم سعودی حکام کی جانب سے اس دعوے کے حوالے سے فوری طور پر کوئی تفصیلی تردید یا تصدیق سامنے نہیں آئی ہے، لیکن مارکیٹ کے تاجروں اور سرمایہ کاروں نے اس خبر پر فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے خریداری بڑھا دی ہے۔ اس غیر یقینی صورتحال کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اچانک اچھال دیکھا گیا جو عالمی معیشت کی بحالی کے لیے ایک بڑا دھکا ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرینِ معاشیات کا ماننا ہے کہ اگر خلیجی خطے میں اس قسم کے سکیورٹی خدشات برقرار رہے اور تیل کی تنصیبات کو حملوں کا خطرہ لاحق رہا، تو آنے والے دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف صنعتی پیداوار کی لاگت بڑھے گی بلکہ مہنگائی کا نیا طوفان بھی آ سکتا ہے جو دنیا کے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک دونوں کے لیے مشکلات پیدا کرے گا۔ تمام متعلقہ عالمی ادارے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ بڑے معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کیے جا سکیں۔