AI
مصنوعی ذہانت کے خطرات: کیا حکومتیں اے آئی پر کنٹرول کھو رہی ہیں؟
دنیا کے طاقتور ترین مصنوعی ذہانت کے سسٹمز تیار کرنے والے ماہرین نے اب حکومتوں کو اس ٹیکنالوجی پر کنٹرول کھونے کے خطرات سے خبردار کر دیا ہے۔ یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اے آئی کی ترقی کی رفتار بے حد تیز ہو چکی ہے۔
دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کے شعبے میں بے مثال ترقی دیکھنے میں آ رہی ہے، تاہم اس تیز رفتار ترقی کے ساتھ ہی اب سنگین خدشات بھی سر اٹھانے لگے ہیں۔ دنیا کے طاقتور ترین اور جدید ترین اے آئی سسٹمز تیار کرنے والے ممتاز ماہرین اور سائنسدانوں نے اب باضابطہ طور پر حکومتوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس ٹیکنالوجی پر اپنا کنٹرول کھونے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ جس رفتار سے اے آئی ماڈلز خود کو بہتر بنا رہے ہیں اور روزمرہ زندگی کے امور میں داخل ہو رہے ہیں، اس سے آنے والے وقت میں انسانیت کے لیے بڑے چیلنجز پیدا ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر وقت پر مناسب حکومتی ضابطے اور حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے، تو اس ٹیکنالوجی کے غیر متوقع نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ موجودہ دور میں ٹیکنالوجی کمپنیاں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں مصروف ہیں، جس کی وجہ سے سیفٹی پروٹوکولز کو بعض اوقات پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب اندرونی حلقوں سے ہی یہ آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ ریاستوں کو مداخلت کر کے سخت قوانین بنانے چاہئیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ اے آئی کا استعمال انسانیت کے مفاد میں ہو نہ کہ اس کے لیے خطرہ بنے۔
دوسری طرف، حکومتیں اور عالمی ادارے بھی اس صورتحال کا ادراک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن قانون سازی کی رفتار ٹیکنالوجی کی ترقی کے مقابلے میں کافی سست ہے۔ ماہرین کا اصرار ہے کہ نجی اداروں اور سرکاری اداروں کے درمیان قریبی تعاون ناگزیر ہے تاکہ اے آئی کی ترقی کو ایک محفوظ دائرہ کار میں رکھا جا سکے۔ اس حوالے سے عالمی سطح پر ایک نئے مباحثے کا آغاز ہو چکا ہے جس میں یہ سوال شدت سے پوچھا جا رہا ہے کہ جب مصنوعی ذہانت اس قدر تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، تو عام انسانوں کی حفاظت کا ذمہ دار کون ہے؟