LIVE
Loading Breaking News...

سوسن سارینڈن نیو یارک میں احتجاج کے دوران گرفتار

News Image
نیو یارک میں اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران معروف ہالی ووڈ اداکارہ سوسن سارینڈن سمیت کئی نامور شخصیات کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اقوام متحدہ کی طرف سے جنگی مجرم کو پلیٹ فارم مہیا کرنے پر شدید تنقید کی ہے۔
نیو یارک میں ہونے والے ایک بڑے احتجاج کے دوران پولیس نے ہالی ووڈ کی مشہور اداکارہ سوسن سارینڈن اور دیگر نامور شخصیات کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ مظاہرہ اسرائیلی وزیراعظم کے دورے اور غزہ میں جاری کشیدہ صورتحال کے خلاف کیا جا رہا تھا جس میں بڑی تعداد میں انسانی حقوق کے کارکنان اور عام شہریوں نے شرکت کی۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ جنگ بندی فوری طور پر نافذ کی جائے اور خطے میں جاری انسانی بحران کو روکا جائے۔ پولیس نے امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے بہانے کئی مظاہرین کو حراست میں لیا جن میں سوسن سارینڈن کا نام سرفہرست ہے۔ دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں نے اقوام متحدہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ادارے کی جانب سے ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جو کہ انتہائی قابل اعتراض ہیں۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی طرف سے ایک ایسے رہنما کی میزبانی کرنا جو جنگی جرائم کے الزامات کی زد میں ہیں، عالمی قوانین اور انسانی حقوق کے اصولوں کے خلاف ہے۔ اس صورتحال کے دوران اقوام متحدہ کے اجلاس میں بھی اس وقت شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی جب مختلف ممالک کے وفود نے اسرائیلی وزیراعظم کی تقریر کے دوران اجلاس سے علامتی واک آؤٹ کیا۔ مبصرین کے مطابق عالمی سطح پر بڑھتا ہوا یہ احتجاج اور سفارتی تنہائی اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا بھر میں غزہ کی موجودہ صورتحال اور اسرائیل کے اقدامات پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ نیو یارک پولیس کی جانب سے گرفتاریوں کے باوجود مظاہرین نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار جاری رکھیں گے اور دنیا بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے۔