LIVE
Loading Breaking News...

اقوام متحدہ میں اسرائیل اور فلسطین کے ساتھ متضاد رویہ

News Image
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران اسرائیل اور فلسطین کے ساتھ برتاؤ میں واضح تضاد اور امتیازی سلوک دیکھا گیا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹ کے باوجود نیویارک میں ذاتی طور پر خطاب کیا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے دوران ایک بار پھر عالمی سطح پر اسرائیل اور فلسطین کے ساتھ روا رکھے جانے والے دوہرے معیار اور متضاد رویے کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ عالمی ادارے کے پلیٹ فارم پر دنیا بھر کے رہنماؤں کی موجودگی میں یہ تضاد اس وقت واضح ہوا جب ایک جانب مظلوم فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق اور ریاست کے حصول کی جدوجہد کو طویل عرصے سے نظر انداز کیا جا رہا ہے، وہیں دوسری جانب اسرائیل کو سفارتی اور سیاسی سطح پر نمایاں سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال عالمی نظام کی کمزوریوں اور طاقتور ممالک کے اثر و رسوخ کی عکاس ہے۔ اس تناظر میں سب سے اہم اور چونکا دینے والا واقعہ یہ رہا کہ اسرائیل کے وزیر اعظم نے بین الاقوامی فوجداری عدالت یعنی آئی سی سی کے وارنٹ گرفتاری کے باوجود اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے ذاتی طور پر خطاب کیا۔ بین الاقوامی قوانین اور عدالتی فیصلوں کے تناظر میں اس پیش رفت پر عالمی قانون دانوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید حیرت اور تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب جنگی جرائم کے الزامات کے تحت بین الاقوامی اداروں کی طرف سے کارروائی کی توقع کی جاتی ہے، کسی مطلوب شخص کو اس طرح کا عالمی پلیٹ فارم مہیا کرنا عالمی انصاف کے نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ دوسری طرف، فلسطینی نمائندگان اور ان کے حامی ممالک نے اس امتیازی سلوک پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اقوام متحدہ کے قوانین تمام رکن ممالک کے لیے یکساں ہونے چاہئیں، لیکن عملی طور پر کمزور قوموں کے لیے ضابطے سخت اور با اثر ریاستوں کے لیے نرم گوشہ رکھا جاتا ہے۔ سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کے فورمز پر فلسطین کے دیرینہ تنازع کے منصفانہ حل کے لیے طویل عرصے سے قراردادیں منظور کی جاتی رہی ہیں، لیکن ان پر عملدرآمد کے معاملے میں ہمیشہ جانبداری کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ اس تمام صورتحال نے اقوام متحدہ کے کردار اور اس کی افادیت پر ایک بار پھر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ عالمی امن کے علمبردار ادارے کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے دباؤ سے آزاد ہو کر بین الاقوامی قوانین کا نفاذ یکساں طریقے سے یقینی بنائے۔ اگر عالمی قوانین کا اطلاق طاقتور اور کمزور کے لیے الگ الگ ہوگا تو دنیا سے تنازعات کا خاتمہ اور پائیدار امن کا قیام ایک خواب ہی رہے گا۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر عالمی سفارتی حلقوں میں مزید گرما گرم بحث متوقع ہے کیونکہ انسانی حقوق کے ادارے اس ناانصافی کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔