World
اٹلی میں برقعے پر پابندی اور اسکولوں میں غیر ملکی طلباء کے داخلے محدود
اٹلی کی حکومت نے ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں برقعے کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسکولوں میں غیر ملکی طلباء کی داخلہ کی شرح پر بھی نئی حد مقرر کر دی گئی ہے۔
اٹلی کی موجودہ حکومت نے ملک میں تارکین وطن کے انضمام اور ثقافتی پالیسیوں کے حوالے سے ایک سخت اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے تعلیمی اداروں میں برقعے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ، اسکولوں میں غیر ملکی طلباء کی تعداد کو بھی مخصوص حد تک محدود کر دیا گیا ہے تاکہ مقامی تعلیمی ماحول اور ثقافتی توازن کو برقرار رکھا جا سکے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ یہ اقدامات ملک کے سماجی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور قانون کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہیں۔ یہ فیصلے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اٹلی میں تارکین وطن کا مسئلہ ایک انتہائی حساس سیاسی موضوع بن چکا ہے۔ اٹلی تارکین وطن کے لیے یورپ کے front-line ممالک میں شمار ہوتا ہے، جہاں بحیرہ روم کے راستے آنے والے مہاجرین کی ایک بڑی تعداد پناہ لیتی ہے۔ آنے والے سالوں میں ہونے والے انتخابات کے پیش نظر تارکین وطن کی شمولیت اور انضمام کا یہ معاملہ ایک بار پھر سیاسی مہمات کا مرکزی نکتہ بنتا جا رہا ہے۔ سیاسی حلقوں میں اس پالیسی پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف جہاں حکومت حامی حلقے ان قوانین کو قومی سلامتی اور ثقافتی تحفظ کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں، وہیں انسانی حقوق کی تنظیمیں اور کچھ سیاسی جماعتیں ان اقدامات کو امتیازی سلوک اور تارکین وطن کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف قرار دے رہی ہیں۔ ان نئے قوانین سے اٹلی کے تعلیمی نظام اور سماجی زندگی پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، یہ آنے والا وقت ہی طے کرے گا، تاہم موجودہ سیاسی فضا میں یہ اقدامات انتہائی بحث کا موضوع بن چکے ہیں۔