LIVE
Loading Breaking News...

ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ: امریکا اور چین کے تعلقات پر اہم مذاکرات

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ایک ریاستی عشائیے کے دوران دونوں سپر پاورز کے مابین دوستانہ تعلقات کو سراہا۔ انہوں نے تائیوان، تجارت، اور مصنوعی ذہانت کے مسائل پر اختلافات کے باوجود مزید مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹنگ نے حال ہی میں چینی صدر شی جن پنگ کے اعزاز میں دیے گئے ایک شاندار ریاستی عشائیے کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان قریبی تعلقات اور دوستی کی بھرپور تعریف کی ہے۔ اس اعلیٰ سطحی ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جس کا بنیادی مقصد دوطرفہ کشیدگی کو کم کرنا اور باہمی تعاون کے نئے دروازے کھولنا تھا۔ دنیا کی یہ دونوں بڑی اقتصادی و عسکری سپر پاورز اس بات پر متفق نظر آئیں کہ اگرچہ ان کے مابین کئی اہم عالمی اور علاقائی مسائل پر گہرے اختلافات موجود ہیں، تاہم پائیدار امن اور معاشی استحکام کے لیے مکالمے کا عمل جاری رہنا ناگزیر ہے۔ ماہرین کے مطابق دونوںممالک کے رہنماؤں کا یہ طرز عمل عالمی سطح پر ایک مثبت پیغام دیتا ہے۔ اجلاس کے دوران جن اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا ان میں ایران کی صورتحال، تائیوان کا حساس تنازع، مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں ابھرتے ہوئے ضابطے اور بین الاقوامی تجارت کے معاملات سرفہرست تھے۔ تائیوان اور تجارت کے حوالے سے دونوں فریقین کے اپنے اپنے مؤقف ہیں، جن پر ماضی میں شدیدتراشیدہ بیانات سامنے آتے رہے ہیں، لیکن اس ملاقات میں تلخی کے بجائے سفارتی شائستگی اور مفاہمت کی فضا دیکھنے میں آئی۔ مصنوعی ذہانت کے میدان میں بڑھتی ہوئی مسابقت کو قواعد و ضوابط کے دائرے میں لانے اور اس کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے بھی مشترکہ لائحہ عمل اپنانے پر غور کیا گیا۔ اس عشائیے کو بین الاقوامی میڈیا اور سیاسی تجزیہ کاروں کی طرف سے ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تمام بنیادی تنازعات فوری طور پر حل ہو جائیں گے، لیکن اس اعلیٰ سطح کے رابطے نے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے خدشات کو قریب سے سمجھنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس ملاقات کے بعد آنے والے مہینوں میں واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تجارتی اور تکنیکی سطح پر مزید تعمیری مذاکرات کا آغاز ہوگا، جس کے مثبت اثرات پوری دنیا کی معیشت پر مرتب ہوں گے۔