World
ایران اور امریکہ کشیدگی، جنگ کے خاتمے کا فیصلہ واشنگٹن کے ہاتھ میں
ایران نے واضح کیا ہے کہ موجودہ جنگ کے خاتمے کا دارومدار اب امریکہ پر ہے جبکہ چین خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے۔ تہران اور واشنگٹن کے درمیان آبِ ہرمز کھولنے اور ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے ایک مرحلہ وار سمجھوتے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
تہران کی جانب سے ایک بار پھر واضح کیا گیا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی اور جنگ کے مکمل خاتمے کا فیصلہ اب امریکہ کو کرنا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے مطالبات اور تجاویز سامنے رکھ دی ہیں اور اب بال امریکہ کے کورٹ میں ہے۔ دوسری طرف، چین نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر کشیدگی میں کمی لانے کے لیے اقدامات کریں تاکہ عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے مابین پس پردہ سفارتی رابطے بھی جاری ہیں جن کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جاری محاذ آرائی کا کوئی پائیدار سیاسی حل تلاش کرنا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس بات پر بھی غور کیا جا رہا ہے کہ ایک مرحلہ وار معاہدے کے تحت آبِ ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے اور امریکہ کی طرف سے عائد کی جانے والی بعض پابندیوں اور ناکہ بندی کو ختم کیا جائے۔ ایران نے ایک ایسی تجویز بھی پیش کی ہے جس کے تحت چند دنوں کے اندر آبِ ہرمز کے راستے کو بحال کیا جا سکتا ہے، اور اب وہ اس سلسلے میں امریکی ردعمل کے منتظر ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر دونوں فریق لچک کا مظاہرہ کرتے ہیں تو اس سفارتی پیشرفت سے مشرق وسطیٰ میں امن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، تاہم اس وقت صورتحال انتہائی نازک موڑ پر کھڑی ہے اور تمام عالمی طاقتیں اس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔