Politics
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا امکان اور پی ٹی آئی کا مارچ
پاکستان تحریک انصاف کے اسلام آباد کی طرف ممکنہ مارچ سے پہلے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کی بازگشتسنائی دے رہی ہے۔ صوبائی اور وفاقی سطح پر سیاسی بیانات کا سلسلہ جاری ہے جبکہ امن و امان کی صورتحال پر بھی بحث کی جا رہی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر کو متوقع اسلام آباد کے طویل مارچ سے پہلے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں گرما گرم بحث شروع ہو گئی ہے۔ صوبے کی امن و امان کی خراب صورتحال اور سیاسی کشمکش کے باعث گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی جانب سے اس حوالے سے اشارے دیے گئے ہیں، جس پر سیاسی جماعتوں کی طرف سے مختلف ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ وفاقی اور صوبائی رہنما اس معاملے پر اپنے اپنے بیانات دے رہے ہیں تاکہ آنے والے دنوں کی سیاسی حکمت عملی کو واضح کیا جا سکے۔
دوسری جانب، پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اس صورتحال اور مذاکرات کے پس منظر میں اپنے مارچ کی تاریخ یا لائحہ عمل پر غور کر رہی ہے۔ پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق گورنر راج کے خدشات اور حکومتی دباؤ کے پیش نظر مارچ میں تاخیر یا اس کی حکمت عملی میں تبدیلی کے آپشنز پر بھی سنجیدگی سے وزنی مشاورت کی جا رہی ہے۔ صوبائی حکومت اور پارٹی عہدیدار اس اقدام کو سیاسی انتقام قرار دے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حربوں سے پی ٹی آئی کے کارکنوں کا عزم کمزور نہیں کیا جا سکتا۔
ادھر وفاقی حکومت کے ترجمانوں اور دیگر رہنماؤں کی جانب سے اس معاملے پر ملا جلا مؤقف سامنے آیا ہے، جہاں کچھ حلقے صوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو اس کا سبب قرار دے رہے ہیں، وہیں بعض سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس سے ملک میں سیاسی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ صوبے کے عوام اور مبصرین اس تمام صورتحال کو انتہائی تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ آنے والے دنوں میں وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان محاذ آرائی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔