World
اقوام متحدہ میں شہباز شریف سے حافظ سعید کے بارے میں سوال
اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کو ایک کڑے سوال کا سامنا کرنا پڑا جب ان سے حافظ سعید کے خلاف کارروائی سے متعلق پوچھا گیا۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے مختلف امور پر گفتگو کی اور علاقائی امن کے لیے بات چیت پر زور دیا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کو ایک غیر متوقع اور سخت صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب ایک صحافی نے ان سے کالعدم تنظیم کے رہنما حافظ سعید کے خلاف مقدمہ چلانے کے حوالے سے براہ راست سوال کیا۔ اس موقع کی ویڈیو سوشل میڈیا اور بھارتی میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم اس کڑے سوال پر کوئی واضح جواب دیے بغیر وہاں سے روانہ ہو گئے۔ اس ناخوشگوار واقعے نے بین الاقوامی سطح پر ایک بار پھر پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف پالیسیوں اور سیکیورٹی اقدامات پر نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ دوسری جانب نیویارک میں قیام کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے دورے کے دیگر مصروفات میں مصروف رہتے ہوئے امریکی پاکستانیوں کو ملک میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت بھی دی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حکومت ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی سرمایہ کاری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور انہیں تمام ممکنہ سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اپنے خطاب اور سفارتی ملاقاتوں کے دوران پاکستانی وزیر اعظم نے خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے باہمی بات چیت اور سفارت کاری کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن اور خوشحالی کا خواہاں ہے اور تمام تصفیہ طلب مسائل کو پرامن مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ، نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر سے ملاقات کی، جس میں کثیرالجہتی نظام کی حمایت اور عالمی فورمز پر تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ یہ دورہ پاکستان کے لیے سفارتی محاذ پر کئی لحاظ سے اہم رہا جہاں ایک طرف اسے عالمی سطح پر سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا، وہیں دوسری طرف اقتصادی تعاون اور علاقائی ڈپلومیسی کو فروغ دینے کے لیے بھی کوششیں جاری رہیں۔