LIVE
Loading Breaking News...

اقوام متحدہ سلامتی کونسل اجلاس، مصنوعی ذہانت کے خطرات پر اہم انتباہ

News Image
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے حالیہ اجلاس میں دنیا بھر کے ممتاز تکنیکی رہنماؤں اور ماہرین نے مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے خطرات سے خبردار کیا ہے۔ اجلاس کے دوران پاکستان نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو کبھی بھی جاری ہتھیاروں کی دوڑ کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک خصوصی اجلاس میں دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے ٹیکنالوجی کے ممتاز رہنماؤں اور ماہرین نے مصنوعی ذہانت (AI) کے ممکنہ خطرات اور اس کے غلط استعمال کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اس اعلیٰ سطحی اجلاس کا بنیادی مقصد اس بات کا جائزہ لینا تھا کہ تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ٹیکنالوجی عالمی امن اور سلامتی کے لیے کس قسم کے چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔ اجلاس کے دوران اوپن اے آئی اور دیگر معروف سائنسی شخصیات کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے اگلے مرحلے کے لیے سخت عالمی معیارات قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا تاکہ انسانیت کو کسی بھی ناگہانی تباہی سے بچایا جا سکے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین کا کہنا تھا کہ اگر اے آئی کی ترقی کو مناسب ضابطوں کے تحت کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ معاشروں کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ اس موقع پر پاکستان کی طرف سے بھی سلامتی کونسل میں انتہائی اہم موقف اپنایا گیا۔ پاکستانی نمائندوں نے عالمی برادری کو خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت کو کسی بھی صورت میں دنیا میں جاری ہتھیاروں کی نئی دوڑ کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ پاکستان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے دنیا میں عدم مساوات مزید بڑھ سکتی ہے، جس سے ترقی پذیر ممالک کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی کے فوائد تمام ممالک تک یکساں طور پر پہنچیں اور اس کے منفی اثرات کو روکنے کے لیے ایک منصفانہ عالمی فریم ورک تیار کیا جائے۔ ماہرِ تعلیم اور سائنسدان پروفیسر یوشوا بینگیو نے بھی سلامتی کونسل کے اس اجلاس میں تفصیلی روشنی ڈالی اور مصنوعی ذہانت کے اخلاقی پہلوؤں پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کی خودمختاری اور کنٹرول انسانی ہاتھ میں ہی رہنا چاہیے تاکہ اس کا غلط استعمال روکا جا سکے۔ اقوام متحدہ میں ہونے والی یہ بحث اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دنیا بھر کے ممالک اب مصنوعی ذہانت کے حوالے سے سنجیدہ سوچ بچار شروع کر چکے ہیں اور اس کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔