World
جاپان اور امریکہ سربراہی اجلاس، کمزور ین پر امریکی صدر کی تشویش
جاپانی حکومت کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم تاکایچی کے ساتھ ملاقات میں جاپانی کرنسی ین کی کمزوری پر تشویش ظاہر کی۔ یہ بیان دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والے اہم سفارتی اجلاس کے بعد سامنے آیا ہے۔
جاپانی حکام کی جانب سے یہ اہم انکشاف سامنے آیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹلاعچی (Takaichi) کے ساتھ ہونے والے حالیہ سربراہی اجلاس میں جاپانی کرنسی ین کی کمزور قدر پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ٹوکیو میں منعقدہ اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں دوطرفہ تجارتی تعلقات اور معاشی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں کرنسی کی مارکیٹ کی اتار چڑھاؤ بھی زیر بحث آئی۔ بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں میں پچھلے کچھ عرصے سے جاپانی ین کی قدر میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے، جس نے عالمی اقتصادی حلقوں میں نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے جاپانی حکام نے تصدیق کی کہ امریکی صدر نے اس بات چیت کے دوران اس بات پر زور دیا کہ کرنسی کی قدر میں پائیداری اور استحکام معاشی ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے رہنماؤں نے باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے اور عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ اور جاپانی قیادت کے درمیان اس مالیاتی موضوع پر گفتگو آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کی مالیاتی پالیسیوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ اس اجلاس کے بعد جاپانی مالیاتی مارکیٹس میں بھی ہلچل دیکھی گئی ہے جہاں سرمایہ کار حکومتی اقدامات اور بیانات پر بڑی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ جاپان کی حکومت اپنے معاشی استحکام کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے اور اس قسم کے سفارتی رابطے مالیاتی دباؤ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔